Bharat Express DD Free Dish

APCR

عدالت نے ریاستی حکومت، چیف سکریٹری، ضلع کلکٹر، تحصیلدار اور نائب تحصیلدار سمیت تمام مدعا علیہان کو دو ہفتے کے اندر جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مقررین نے انکشاف کیا کہ کس طرح آسام میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور حراستی مراکز میں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

سماجی تنظیم ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران گڑگاؤں میں 200 سے زائد افراد کو غیرقانونی طورپرحراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ ترافراد کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اوریہ لوگ دہائیوں سے تعمیرات، گھریلوکام، فیکٹریوں، صفائی، ری سائیکلنگ اور ڈرائیوری جیسے شعبوں میں کام کرکے شہرکی معیشت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔

رپورٹ کے شریک محقق نوشرن سنگھ نے کہا کہ رپورٹ پڑھ کر انسان لرز اٹھتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کی گرفتاری، قانونی کارروائی کے بغیر مکانات کا انہدام اور روزمرہ کی سہولیات کو بطور سزا استعمال کرنا ریاستی جبر کی بدترین مثالیں ہیں۔

APCR کی ٹیم نے مسلسل 14 دن تک متاثرہ علاقوں میں تحقیق کی، جب کہ بندی مکتی کمیٹی نے شمشیر گنج تھانے میں درج تقریباً 300 ایف آئی آرز کا تجزیہ کیا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے آزاد جنت نشا اسکول کواس کی زمین سے بے دخلی کے معاملے میں بڑی راحت دی۔ یہ اسکول سنبھل کے علاقے عالم سرائے میں واقع ہے اورایک دیرینہ تعلیمی ادارہ ہے، جوکئی دہائیوں سے بلا رکاوٹ تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے۔

محمد ارشد کو24 نومبر2024 کوسنبھل کی شاہی جامع مسجد کے قریب ایک متنازعہ سروے کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتارکیا گیا تھا، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر بدامنی کو جنم دیا تھا۔  ارشد پرکئی دیگر افراد کے ساتھ، جائے وقوعہ پر موجود ہونے، آتش زنی، پتھراؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں"وقف اراضی کی حفاظت" پر منعقدہ عوامی اجلاس میں ہندوستان بھر میں وقف املاک کو بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لئے سیاسی رہنماؤں، شہری حقوق کے کارکنوں، قانونی ماہرین، ماہرین تعلیم، اورمتعلقہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے 26 اپریل کو دیر رات ہزاروں مبینہ تارکین وطن کی گرفتاری پر شدید نکتہ چینی اور مبینہ شہریوں کو حراست میں لیے جانے کے عمل کی مذمت کی ہے۔