نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی کوششوں سےاس وقت ایک اہم اورتاریخی قانونی کامیابی ملی، جب نئی دہلی کے اسپیشل سیل میں درج ایف آئی آرنمبر106/2018 میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جمشید ظہورپال اورپرویزرشید لون کوتمام الزامات سے باعزت بری کردیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک طویل اورصبرآزما قانونی جدوجہد کا نتیجہ تھا بلکہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت قائم مقدمات کے حوالے سے ایک اہم نظیربھی قائم کرتا ہے۔ یہ مقدمہ سنہ 2018 میں اس وقت درج کیا گیا تھا جب دونوں افراد کو 7 ستمبر کو دہلی کے تاریخی علاقے لال قلعہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پرغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یواے پی اے) اورآرمزایکٹ کے تحت دہشت گردی سے روابط اورمجرمانہ سازش جیسے سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔ گرفتاری کے بعد دونوں ہی افراد تقریباً 8 سال تک قید میں رہے۔ اس دوران مقدمے کی کارروائی غیرمعمولی تاخیرکا شکاربھی ہوئی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، کیس میں فردِ جرم عائد کرنے میں بھی طویل وقت لگا اوراپریل 2022 میں جا کرچارج فریم کئے گئے۔ مزید برآں، 2024 تک دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے باعث ملزمان مسلسل حراست میں رہے، جس سے ان کی قید کا دورانیہ مزید طویل ہوگیا۔ تاہم، طویل سماعتوں اورشواہد کے باریک بینی سے جائزے کے بعد عدالت اس نتیجے پرپہنچی کہ استغاثہ اپنے دعووں کے حق میں کوئی ٹھوس، قابلِ اعتباراورناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنے میں مکمل طورپرناکام رہا، جس کے نتیجے میں دونوں ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا۔
بڑی کامیابی، لیکن انسانی قیمت کونظراندازنہیں کیا جاسکتا: ندیم خان
اے پی سی آرکی قانونی ٹیم نے اس مقدمے کو مسلسل سنجیدگی، مہارت اورعزم کے ساتھ آگے بڑھایا۔ تنظیم کے قومی سکریٹری ندیم خان نے فیصلے پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ ایک بڑی قانونی کامیابی ہے، لیکن اس کی انسانی قیمت کونظراندازنہیں کیا جا سکتا۔ ندیم خان کے مطابق، ”آج ان افراد سے دہشت گردی کا لیبل ہٹ گیا ہے، مگران کی زندگی کے 8 قیمتی سال ضائع ہوچکے ہیں۔ یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح بے بنیاد الزامات کسی کی زندگی کومکمل طورپرتباہ کرسکتے ہیں۔“
یواے پی اے کا غلط استعمال ہوا: ملک معتصم خان
اے پی سی آرکے جنرل سیکریٹری ملک معتصم خان نے بھی اس موقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں غیر معمولی قوانین جیسے یو اے پی اے کو ایسے انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے کہ بنیادی قانونی تقاضے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہماری ٹیم نے ان افراد کا ساتھ اس وقت دیا جب معاشرہ انہیں مجرم سمجھ چکا تھا، اورآج کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انصاف کے تقاضے اور شواہد کی اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔” یہ فیصلہ نہ صرف متعلقہ افراد کے لیے انصاف کی فراہمی ہے بلکہ اس سے وسیع ترقانونی اورسماجی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ خاص طور پر یہ معاملہ اس بات کو واضح طور پر نمایاں کرتا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت تفتیشی عمل میں شفافیت، احتیاط اورجوابدہی کویقینی بنانا کس قدر ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے مقدمات میں طویل حراست اور کمزور شواہد انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو متاثرکرسکتے ہیں، جس کے لیے مؤثراصلاحات اورمضبوط حفاظتی اقدامات ناگزیرہیں۔
مزید برآں، یہ فیصلہ عدالتوں کی اس بنیادی ذمہ داری کو بھی اجاگرکرتا ہے کہ وہ حساس نوعیت کے مقدمات میں بھی غیرجانبداری اورشواہد کی بنیاد پرفیصلے کریں، چاہے ان پرکتنا ہی سیاسی یا سماجی دباؤ کیوں نہ ہو۔ اس تناظرمیں یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک اہم عدالتی نظیرکے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ اے پی سی آرکے مطابق، یہ کیس اس کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ کھڑی رہے گی، جوطویل عرصے تک اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اورجن کی آوازاکثردب جاتی ہے۔ تنظیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی انصاف، آئینی حقوق اورقانونی شفافیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


