Bharat Express DD Free Dish

UAPA case

یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت سے متعلق سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ طویل سماعتوں اور سزا کی کم شرح کے نتیجے میں بہت سے افراد برسوں تک جیل میں رہتے ہیں۔

دہلی کی کڑکڑ ڈوما کورٹ نے عمرخالد کی 15 دنوں کی عبوری ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عمرخالد نے ماں کی دیکھ بھال کے لئے عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے عمر خالد کی 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

حکم نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے اور خفیہ روابط رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کو بھارت سرکار نے سنہ 2019 میں پابندی عائد کرکے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ افراد ادارے کے انتظامی اور تدریسی امور میں شامل رہے اور ادارے کے کام کاج پر ان کا اثر و رسوخ پایا گیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، کیس میں فردِ جرم عائد کرنے میں بھی طویل وقت لگا اوراپریل 2022 میں جا کرچارج فریم کئے گئے۔ مزید برآں، 2024 تک دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے باعث ملزمان مسلسل حراست میں رہے، جس سے ان کی قید کا دورانیہ مزید طویل ہوگیا۔

جموں و کشمیر پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ یہ نیٹ ورک کالعدم تنظیموں جیشِ محمد اور انصار غزوۃ الہند سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران سات مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور تقریباً 2,900 کلو دھماکہ خیز مواد، بھاری تعداد میں اسلحہ اور حساس اشیاء برآمد کیں۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ آرمس ایکٹ کے تحت دی گئی دس سال کی سزا کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ اور مقدمات کی طرح سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا اور ان کے اوپر سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام بھی ختم ہوجائے گا ان شاء اللہ۔ بتا دیں کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے فروری 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کرنے سے متعلق کیس کے ملزم شاداب احمد کی درخواست ضمانت پراپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یواے پی اے کے تحت گرفتار شاداب پرشہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں کے دوران فسادات بھڑکانے کا الزام ہے۔

طاہر حسین نے کہا کہ اس وقت عدالت میں بحث صرف الزامات عائد کرنے پر ہو رہی ہے۔ اسے مکمل ہونے میں کافی وقت لگنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اور ملزم کی درخواست پر، ہائی کورٹ نے فی الحال اس عدالت کو الزامات طے کرنے کے احکامات دینے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے 20 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ایک ضمانت پیش کرنے پر 29 اکتوبر سے 5 نومبر تک شاداب کی ضمانت منظور کی۔