Bharat Express DD Free Dish

APCR organizes program on Search for Justice: ’’انصاف کی تلاش: ضمانت سے مسلسل انکار اور اختلاف رائے کو قید‘‘ کے عنوان سے اے پی سی آر نے کیا پروگرام کا انعقاد

پروگرام میں تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اپنی آزادی بحال کرے، یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا خاتمہ ہو اور یہ اصول دوبارہ زندہ ہو کہ ’ضمانت قاعدہ ہے، جیل استثنا۔‘‘

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول  نے جواہر بھون نئی دہلی میں ایک اہم عوامی پروگرام بعنوان ’’انصاف کی تلاش: ضمانت سے مسلسل انکار اور اختلاف رائے کو قید‘‘ جیسے اہم موضوع پر منعقد کیا، جس میں ملک کے ممتاز ماہرین قانون، سینئر وکلا، انسانی حقوق کے محافظ اور بڑی تعداد میں سماجی و ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام میں ملک میں بڑھتے ہوئے آئینی بحران، بغیر مقدمے کے برسوں تک قید میں رکھا جانا، ضمانت دینے سے مسلسل انکار، اور یو اے پی اے  جیسے سخت قوانین کے تحت اختلاف رائے کی صورت میں مخالفین کی آوازوں کو دبانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

’’آج اظہار رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے‘‘

یہ پروگرام دو سیشن پر مشتمل تھا۔ پہلا سیشن وکلاء کے پینل پر مشتمل تھا، جس میں ریاستی جبر اور اس کے قانونی پہلوؤں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اس پینل میں سپریم کورٹ کے سینئرایڈوکیٹ کالن گونزالویس، ایڈوکیٹ نِتیا رام کرشنن، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن اور ایڈوکیٹ واریشہ فراست شامل تھے، جبکہ نظامت ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم نے کی۔ ایڈوکیٹ شاہ رخ عالم نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’جمہوریت میں اختلاف رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہم خیالات اور تقاریر کو پابند بنا کر سزا دے رہے ہیں، نہ کہ تشدد کو۔‘‘ اپنا موقف پیش کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نتیا رام کرشنن نے کہا کہ ’’آج اظہار رائے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ ریاست ہر اختلاف کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے اور ضمانت کو حق نہیں بلکہ احسان قرار دیتی ہے۔ یہ آئینی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔‘‘

عدلیہ کی خاموشی اور طریقۂ کار پر سوال

ایڈووکیٹ کالن گونزالویس نے عدلیہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ساتھی پانچ سال سے بغیر مقدمہ جیل میں بند ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دہلی فسادات کس نے کرائے، مگر جوابدہی کے بجائے طلبہ اورسماجی کارکنان کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ عدلیہ کی خاموشی بزدلی ہے۔ ‘‘ ایڈووکیٹ واریشہ فراست نے یو اے پی اے کے غلط استعمال کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلی بار ہے کہ فسادات میں یو اے پی اے لگایا گیا ہے۔ 1984 یا گجرات 2002 کے فسادات کے دوران ایسا کبھی ایسا نہیں ہوا۔ قانون کا انتخابی استعمال پوری طرح سے واضح ہے۔‘‘  ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ضمانت دینے سے انکار عدلیہ کے اندرونی بگاڑ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حساس مقدمات مخصوص ججوں کو دیے جاتے ہیں، اس لیے ضمانت ممکن نہیں رہتی۔‘‘

’’حکومت پر تنقید کو ملک دشمنی بنا دیا گیا ہے‘‘

پروگرام کے دوسرے حصے میں پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری، سینٹر ایڈووکیٹ سنجے آر ہیگڑے، سابق آئی اے ایس افسر کنن گوپال ناتھن اور اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران جسٹس اقبال احمد انصاری نے کہا کہ ’’جب جج آنکھیں اور منہ بند کر لیتے ہیں تو وہ آئین کے محافظ نہیں رہتے، بلکہ اس کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔ عدلیہ کی خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ شراکت داری ہے۔‘‘ ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا ’’جب مقدمہ چلانے کا ارادہ نہیں ہوتا تو لوگوں کو کب تک جیل میں رکھیں گے؟ پانچ سال؟ دس سال؟ آرٹیکل 21کے تحت ضمانت حق ہے، ریاست کی مہربانی نہیں۔‘‘ اس موقع پرکنن گوپال ناتھن نے کہا کہ ’’حکومت پر تنقید کو ملک دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ خاموش رہنا محفوظ ضرور ہے، مگر یہ بزدلی ہے، حب الوطنی نہیں۔‘‘

خاموشی جمہوریت کیلئے نقصاندہ

فلم ڈائریکٹر پرکاش راج نے کہا کہ ’’یہ لوگ جیل میں ہیں کیونکہ حکومت ان سے خوفزدہ ہے۔ یہ مجرم نہیں بلکہ ضمیر کے رکھوالے ہیں۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہم جمہوریت کے خاتمے کے ذمہ دار ہوں گے۔‘‘ آخر میں تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اپنی آزادی بحال کرے، یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا خاتمہ ہو اور یہ اصول دوبارہ زندہ ہو کہ ’ضمانت قاعدہ ہے، جیل استثنا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read