Bharat Express DD Free Dish

APCR

مقررین نے مجوزہ حلقہ بندی، خواتین ریزرویشن بل اور انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ مقررین نے مبینہ ووٹرحذف کئے جانے، انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی اورجمہوری اداروں کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر گہری تشویش ظاہرکی۔

ٹی سی ایس ناسک واقعہ سے متعلق ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) مہاراشٹر نے ممبئی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انعقاد کرکےاپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی۔

وفد نے ناسک کے کمشنرآف پولیس کو ایک باضابطہ میمورنڈم بھی پیش کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے کی تفتیش مکمل غیر جانبداری، شفافیت اور قانون کے مطابق انجام دی جائے۔ مزید برآں، اے پی سی آرکے نمائندے ناسک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنزکورٹ میں ریمانڈ کی کارروائی کے دوران بھی موجود رہے تاکہ عدالتی عمل کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔

سینئر ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے ایس آئی آر کے پورے عمل کی قانونی اورآئینی حیثیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے لیے مقررہ اصول وضوابط اور شفافیت کے تقاضوں پرمکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق، کیس میں فردِ جرم عائد کرنے میں بھی طویل وقت لگا اوراپریل 2022 میں جا کرچارج فریم کئے گئے۔ مزید برآں، 2024 تک دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے باعث ملزمان مسلسل حراست میں رہے، جس سے ان کی قید کا دورانیہ مزید طویل ہوگیا۔

 اترپردیش کے وارانسی کی دال منڈی مارکیٹ میں عدالتی احکامات کے باوجود زبردستی انہدامی کارروائیوں کی اے پی سی آر نے سخت مذمت کی ہے۔ جبراً بے دخلی اور انہدامی کارروائی کو فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

اے پی سی آر اور جماعت اسلامی ہند کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسے قانون نافذ کرنے والا عمل قطعی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ قانون کی بالا دستی کی تباہی ہے۔ پوپی پولیس محافظ کے بجائے مظلوموں کی دشمن بن چکی ہے۔

اے پی سی آر کے نمائندوں نے یقین دلایا کہ تنظیم متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرے گی اورواقعہ کی غیرجانبدارانہ تفتیش کے لیے حکام سے مطالبہ کرے گی۔ مزید یہ کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تواس کیس کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی لے جایا جائے گا۔

پروگرام میں تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اپنی آزادی بحال کرے، یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا خاتمہ ہو اور یہ اصول دوبارہ زندہ ہو کہ ’ضمانت قاعدہ ہے، جیل استثنا۔‘‘