نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے زیرِاہتمام مغربی بنگال، خصوصاً مالدہ اورمرشد آباد اضلاع میں اسپیشل انٹینسیوررویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹرلسٹ سے ناموں کے اخراج، انتخابی شمولیت میں رکاوٹوں اورشہریت سے متعلق بڑھتے خدشات پرسنجیدہ بات چیت کی گئی۔ یہ بات چیت پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں گزشتہ روزایک اہم پریس کانفرنس میں کی گئی۔ اس دوران مقررین نے کہا کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں اورغیرشفافیت نہ صرف ووٹررائٹس کومتاثرکررہی ہیں بلکہ جمہوری عمل کی ساکھ پربھی سوالات کھڑے کررہی ہیں۔
پروگرام میں مالدہ اورمرشد آباد سے متاثرہ افراد اورخاندانوں کی گواہیاں پیش کی گئیں، جنہوں نے بتایا کہ تمام مطلوبہ دستاویزات رکھنے کے باوجود ان کے نام ووٹرلسٹ سے حذف کردیئے گئے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ تصدیق کے باوجود ان سے بارباردوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ بعض معاملات میں ایک ہی خاندان کے اکثرافراد کے نام برقراررہے مگرکسی ایک فرد کا نام بغیروضاحت کے خارج کردیا گیا۔
شکایات کے ازالے میں ادارہ جاتی خاموشی باعث تشویش: ندیم خان
اس موقع پریہ بھی بتایا گیا کہ بعض بوتھ لیول آفیسرز(بی ایل اوز) کے اپنے نام بھی ووٹرلسٹ سے ہٹا دیئے گئے، جس سے پورے عمل کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔ مالدہ سے سماجی کارکن محبوب الحق نے کہا کہ محدود وقت، طریقۂ کارمیں تضادات اورانتظامی دباؤنے عوام اورفیلڈ اہلکاروں دونوں کوشدید ذہنی دباؤمیں مبتلا کردیا ہے۔ شبیراحمد نے اعداد وشمارکی بنیاد پر کہا کہ اس عمل سے بعض کمزورطبقات غیرمتناسب طورپرمتاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں مسلمان، خواتین، ٹرانسجینڈر افراد، جنسی کارکنان اوردیگرحاشیے پرزندگی بسرکررہی برادریاں شامل ہیں۔ ان کے مطابق خاص طورپرمسلم مردوں کے ناموں کے اخراج کا رجحان زیادہ نمایاں ہے۔ اے پی سی آرکے قومی سکریٹری ندیم خان نے شکایات کے ازالے میں ادارہ جاتی خاموشی پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شہریوں کی بات سننے کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پرناموں کی منسوخی کے خلاف آوازاٹھانے والوں کوہراسانی اوردباؤکا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پرشانت بھوشن نے ایس آئی آرکے پورے عمل کی قانونی اورآئینی حیثیت پراٹھایا سوال
سپریم کورٹ کے سینئرایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے اس پورے عمل کی قانونی اورآئینی حیثیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے لیے مقررہ اصول وضوابط اورشفافیت کے تقاضوں پرمکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ پروفیسر اجیت جھا نے کہا کہ اگرانتخابی عمل اس نہج پرپہنچ جائے کہ رائے دہندگان (ووٹرز) حکومت منتخب کرنے کے بجائے خود انتخابی عمل کی زد میں آ جائیں، تویہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
مقررین نے انتخابی نظرثانی کے عمل میں شفافیت کی کمی قراردیا
کانفرنس کی نظامت کرنے والی بنجیوتسنا لاہڑی نے کہا کہ یہ واقعات محض انفرادی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک وسیع ترپیٹرن کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے اثرات خاص طورپرکمزوراور حاشیائی طبقات پرزیادہ پڑرہے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پرشرکاء نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں شفافیت، جواب دہی، قانونی تحفظ اورمؤثرنگرانی کویقینی بنایا جائے، تاکہ کوئی بھی اہل شہری غیرشفاف یا امتیازی عمل کے باعث اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ کانفرنس میں وکلا، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنان، سیاسی نمائندوں اورمتاثرہ افراد سمیت بڑی تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

