Bharat Express DD Free Dish

Big Relief from Madhya Pradesh High Court: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے بڑی راحت، اے پی سی آر کی قانونی مداخلت پر کھنڈوا میں 38 مکانات کے انہدام پر لگی عبوری روک

اے پی سی آر نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں کے اُن درجنوں متاثرہ خاندانوں کو بڑی قانونی راحت دلائی ہے جن کے مکانات کو بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا خدشہ تھا۔

شہری و انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں کے اُن درجنوں متاثرہ خاندانوں کو بڑی قانونی راحت دلائی ہے جن کے مکانات کو بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا خدشہ تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اے پی سی آر کی قانونی پیروی پر اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مجموعی طور پر 38 مکانات کے انہدام پر فوری طور پر روک لگا دی ہے۔

کیا تھا معاملہ ؟

بدھیاتولا گاؤں، ضلع کھنڈوا کی ایتوا تحصیل میں واقع ہے، جہاں مبینہ طور پر مویشی ذبح کیے جانے کے ایک مقدمے میں 9 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ مرکزی ملزم سمیت تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی، جبکہ مرکزی ملزم پر قومی سلامتی قانون (NSA) کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ 20 جون 2026 کو چند ہندوتوا تنظیموں کے ارکان نے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے منڈی ہائی وے کو بند کر دیا۔ اس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مبینہ طور پر گاؤں میں چند مکانات کو ’غیر مجاز تعمیرات‘ قرار دے کر منہدم کیا اور متعدد دیگر خاندانوں کو بھی انہدام کے نوٹس جاری کر دیے۔

متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر اے پی سی آر کا قابل ستائش قدم

متاثرہ خاندانوں کی اپیل پر اے پی سی آر نے فوری قانونی مداخلت کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ، جبل پور سے رجوع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں عدالتِ عالیہ نے چار مکانات کے انہدام پر عبوری روک عائد کی۔ بعد ازاں مزید 47 خاندانوں کو نوٹس جاری کیے گئے، جس کے بعد اے پی سی آر نے 34 مزید خاندانوں کی جانب سے بھی عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے ان درخواستوں پر بھی سماعت کرتے ہوئے عبوری تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں اب تک 38 مکانات کے انہدام پر عدالتی پابندی عائد ہو چکی ہے۔

’بلڈوزر کارروائیاں عدالتی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں‘

اے پی سی آر کی جانب سے عدالت میں یہ مقدمات سینئر ایڈووکیٹ کبیر پال، ایڈووکیٹ آریان اُرمالیہ اور ان کی قانونی ٹیم نے مؤثر انداز میں پیش کیے۔ اس موقع پر اے پی سی آر نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کسی بھی فوجداری مقدمے کی تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھنی چاہئیں، تاہم آئینی اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر رہائشی مکانات کو منہدم کرنا نہ صرف شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

اے پی سی آر نے واضح کیا کہ بلڈوزر کارروائیاں عدالتی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی انہیں اجتماعی سزا کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ متاثرہ شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہے گی اور آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن عدالتی چارہ جوئی جاری رکھے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read