Bharat Express DD Free Dish

Bulldozer action case

صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔

اے پی سی آر نے مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوا کے بدھیاتولا گاؤں کے اُن درجنوں متاثرہ خاندانوں کو بڑی قانونی راحت دلائی ہے جن کے مکانات کو بلڈوزر کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا خدشہ تھا۔

ایم سی ڈی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جو کارروائی ہوئی، وہ صرف غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تھی اور یہ معمول کا عمل تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ مکانیں عوامی سڑک پر ہیں، تب بھی نوٹس جاری ہونا چاہیے۔

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں ایک بڑی اور سخت کارروائی میں انتظامیہ نے منگل کے روزسنبھل تالاب کی مبینہ سرکاری اراضی پر بنائے گئے تین غیر قانونی مکانات کو مسمار کر دیا۔

رقیب  الحسین ودیا پارہ کا رہنے والا ہے۔ پولیس فورس اور بلڈوزر کے پہنچنے سے پہلے یہاں رہنے والے تمام خاندان اپنے گھروں سے ٹین کی چھتیں ہٹا کر اپنا سارا سامان لے گئے تھے۔ حسین کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا سارا سامان ایک رشتہ دار کے گھر رکھا لیکن رات یہیں رہے۔

یوپی کے بلرام پورمیں غیرقانونی مذہب تبدیلی کے الزام میں گرفتار جمال الدین عرف چھانگربابا کی حویلی پربلڈوزرچلا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حویلی گرام سبھا کی زمین پربنائی گئی تھی۔ پولیس کی موجودگی میں یہ بلڈوزرکارروائی کی گئی۔

جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ کوئی بھی اس طرح کا نوٹس دے گا اور توڑ پھوڑ کرے گا۔ یہ تخریب کاری کا معاملہ ہے جس میں ظلم شامل ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے بھیجنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، لیکن یہاں یہ نوٹس بذریعہ ڈاک بھیج دیا گیا ہے۔

کورٹ نے اتر پردیش کے افسران کے خلاف دائر توہین عدالت کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مولانا مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام افراد کو معاوضہ دیا جائے جن کی املاک بغیر مناسب قانونی عمل کے منہدم کی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہےاور ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کو روکا جانا ضروری ہے۔