Saharanpur Mosque Demolition: اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد پر ہفتہ کی علی الصبح انتظامیہ کا بلڈوزر چلا اور تعمیر کو مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔ ضلع عدالت کی جانب سے مسلم فریق کی اپیل مسترد کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد ہوئی اس کارروائی نے اتر پردیش کی سیاسی صورتحال کو انتہائی گرم کر دیا ہے۔ کارروائی کی مخالفت کے خدشے کے پیش نظر کیرانہ سے سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو دیر رات ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا۔ وہیں سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، بی ایس پی سربراہ مایاوتی اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے حکومت اور انتظامیہ کے طریقہ کار پر سخت تنقید کی ہے۔
عدالت کے حکم کے بعد کارروائی
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو غیر قانونی قرار دینے والے سٹی مجسٹریٹ کے 17 جولائی کے حکم کو 4 ستمبر کو ضلع جج کی عدالت نے برقرار رکھا تھا۔ عدالت نے مسلم فریق کی عرضی مسترد کرتے ہوئے 6.42 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی برقرار رکھا۔ اس کے بعد جمعہ کی رات سے ہی احاطے سے بے دخلی اور سیل کرنے کا عمل شروع ہو گیا تھا۔
ہفتہ کی صبح تقریباً 5 بجے بھاری پولیس اور پی اے سی فورس کی موجودگی میں جے سی بی اور بلڈوزر کے ذریعے ڈھانچے کو منہدم کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران کلکٹریٹ کے تمام دروازے بند کر دیے گئے اور 10 سے زائد تھانوں کی فورس تعینات رہی۔ میونسپل کارپوریشن کے نصف درجن سے زائد ڈمپرز کے ذریعے ملبہ باہر نکالا گیا۔ سہارنپور رینج کے ڈی آئی جی ابھیشیک سنگھ نے واضح کیا کہ انتظامیہ نے عدالت کے حکم کے مطابق قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے یہ کارروائی کی ہے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
ایس پی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن ہاؤس اریسٹ
مسجد منہدم کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد سہارنپور جانے کی تیاری کر رہی کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کی رہائش گاہ پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا گیا۔ اقرا حسن نے انتظامیہ کے اس اقدام کو آمریت قرار دیتے ہوئے کہا:’’کیا عوام کی آواز اٹھانا اور افسران سے ملاقات کرکے پُرامن طریقے سے بات کرنا جرم ہے؟ عوامی نمائندوں کو اس طرح گھروں میں قید کرکے عوام کے مسائل کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ہم افسران کے سامنے قانونی پہلو رکھنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں اپنی بات رکھنے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔‘‘
’ہتھوڑا مسجد پر نہیں، آئین پر چلایا گیا‘ — عمران مسعود
سہارنپور کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے انہدام میں عجلت پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رات کو عدالت کا فیصلہ آتا ہے اور صبح ہوتے ہی مسجد گرا دی جاتی ہے۔ یہ ہتھوڑا مسجد پر نہیں بلکہ آئین پر چلایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین کی ملکیت کا حق آج بھی واحد خان اور یعقوب خان کے نام درج ہے۔ اس پر لمیٹیشن ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کو فریق تک نہیں بنایا گیا۔ عمران مسعود نے سہارنپور کے عوام سے تحمل برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لڑائی کو قانونی طور پر الہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔
’مساجد کو عجلت میں منہدم کرنا غلط‘ — مایاوتی
بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے سوشل میڈیا پر تفصیلی ردعمل دیتے ہوئے انتظامیہ کے رویے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ریاست میں مساجد کو عجلت میں غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنے کی حکومتی مہم درست نہیں ہے۔ حکومت کو ایسے منفی ماحول سے بچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا یکساں احترام اور تحفظ کرے۔ قوانین اور ضوابط کی پابندی کیے بغیر بلڈوزر چلا کر پورے خاندان کو بے گھر کرنے کی کارروائیوں سے لوگ پریشان ہیں۔ ریاست میں ’قانون کے ذریعے قانون کی حکمرانی‘ کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالتوں سے بھی اس جانب توجہ دینے کی اپیل کی۔
’حکومت کو ایک رات میں یاد آیا‘ — اسدالدین اویسی
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے انہدام کی کارروائی کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کمیٹی نے 1911 کے سرکاری دستاویزات پیش کیے تھے، جو ثابت کرتے ہیں کہ وہاں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے نماز ادا کی جا رہی تھی۔
اویسی نے کہا کہ قانون کے تحت یہ معاملہ واضح طور پر ’وقف بائی یوزر‘ (Waqf by User) اور ایڈورس پزیشن (Adverse Possession) کے زمرے میں آتا ہے۔ حکومت 100 سال بعد اچانک بیدار ہو کر جائیداد پر دعویٰ نہیں کر سکتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مسلمانوں کے لیے مذہبی آزادی کا آئینی حق ختم ہو چکا ہے؟ محض کسی کو بے آرامی یا ناگواری محسوس ہونے کی وجہ سے کسی تاریخی مذہبی مقام پر بلڈوزر نہیں چلایا جا سکتا۔سہارنپور کی اس کارروائی نے ایک بار پھر اتر پردیش میں مذہبی مقامات اور املاک پر بلڈوزر ایکشن کے قانونی اور انسانی پہلوؤں کو لے کر قومی سطح پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


