Bharat Express DD Free Dish

Hate Politics

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع  تاریخی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ چاپلوسی اور سیاسی غلامی کا ایک بدترین مظاہرہ تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سہارنپور کے افسران نے دنیا کے سامنے اپنی متعصبانہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرکے آخر کیا حاصل کیا ؟ یہ پورا واقعہ ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے اور اقلیتی حقوق کے تعلق سے ملک کی قیادت کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

 سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے سخت سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا۔ کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیا گیا، جبکہ عمران مسعود، مایاوتی اور اسدالدین اویسی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

دھار کی بھوج شالا کے پیچھے سروے نمبر 611 پر واقع آبائی زرعی زمین پر نماز کی ادائیگی کے لیے انتظامیہ کی تیاریوں کے خلاف کسانوں نے شدید ہنگامہ کیا۔ کسانوں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس کے کیے گئے فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو وہ قانونی کارروائی کریں گے۔

جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی مسجد کے انہدام کے خلاف مسلم تنظیموں نے عدالتی تحقیقات، مسجد کی ازسرِ نو تعمیر اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے 6 مئی کو ایک حوصلہ افزا سنسکرت سبھاشِت شیئر کرتے ہوئے بے لوث عمل اور انسانیت کے اصولوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ من، قول اور عمل سے کسی کو نقصان نہ پہنچانا اور دوسروں پر رحم کرنا ہی سب سے بہترین طرزِ عمل ہے۔

بنگلورو کی پی ای ایس یونیورسٹی میں ایک پروفیسر نے مسلم طالب علم عفان کے خلاف قابلِ اعتراض اور مذہبی تبصرہ کیا ہے۔ یہ تنازع کلاس میں طالب علم کی جانب سے اجازت مانگنے کے دوران شروع ہوا۔ واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ملزم  پروفیسر کے خلاف یونیورسٹی نے بڑا ایکشن  لیا ہے۔

گجرات کے بھروچ میں سرکاری زمین پر قائم بالاپیر درگاہ اور دو مزاروں کو بلڈوزر سے مسمار کر دیا گیا۔ اس دوران بھاری تعداد میں پولیس تعینات رہی۔ انتظامیہ نے یہ کارروائی گاؤں والوں کی شکایت پر کی۔

مہاراشٹر کے مالے گاؤں میں میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے اندر نماز ادا کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر نتیش رانے اور لیڈر کریت سومیا نے وزیراعلیٰ دیوینڈر فڈنویس سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔