Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

سلیم انجینئر نے کہا کہ میڈیا کی ایسی رپورٹوں کو پڑھ کر بھی تشویش ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنتر منتر اور دہلی کے اطراف کے احتجاج کو روکنے کے لیے تقریباً 38,000 سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو اپنے ہی ملک کے شہریوں کے خلاف استعمال کرنا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کے ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں اور حکومت کے درمیان اعتماد اٹھ رہا ہے اور ہماری جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں عبادت گاہوں کو باربار نشانہ بنائے جانے، ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اورپُرامن عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کارپرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑناموں کوووٹرفہرستوں سے باہرکردیا گیا ہے۔

ماہر نفسیات اور کیریئر کونسلر ڈاکٹر انکش ورما نے ایسے دور میں انسانی اقدار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی وجہ سے تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت معلومات اور تجاویز تو فراہم کر سکتی ہے، لیکن ہمدردی، رفاقت، جذباتی تسلی اور انسانی لمس کا متبادل نہیں بن سکتی۔

 سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے سخت سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا۔ کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیا گیا، جبکہ عمران مسعود، مایاوتی اور اسدالدین اویسی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

جماعت اسلامی ہند کی قومی سکریٹری رحمت النساء نے کہا کہ تمام متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی ریکارڈ، ویڈیوز اور دیگر شواہد کو محفوظ رکھا جائے اور ان کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ اس معاملے میں جو بھی شخص ذمہ دار پایا جائے، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ نائب امیر ایس امین الحسن نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر ملک معتصم خان اور پروفیسر سلیم انجینئر نے حکومت کی طرف سے قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت اورمختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:"ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

جماعت اسلامی ہند نے میمورنڈم کے ذریعے جو اہم مطالبات پیش کیے ہیں ۔ان میں حکومت سے انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ شامل ہے۔ ‎جماعت اسلامی ہند نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت نے کہا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے، اگر انتظامیہ اپنے انہدامی فیصلے پر عمل کرتی ہے تو یہ طلبہ برادری کے لیے سنگین نا انصافی ہوگی۔

‎جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے۔