Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کومعاشی ترقی کے مواقع حاصل ہوں اورصنعتی ترقی کے عمل میں مزدوروں کی فلاح وبہبود کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ نوئیڈا کی یہ صورتحال مزدوروں، صنعت اور ریاست کے درمیان باہمی گفت وشنید اور اعتماد کی کمی کو بھی ظاہرکرتی ہے۔

نمائش کے ذریعے ہندوستان میں اسلام اورمسلمانوں کی تاریخ کو ایک متوازن اورحقائق پرمبنی نقطۂ نظرکے ساتھ پیش کیا گیا۔ انڈیا ہسٹری فورم کے کنوینرڈاکٹرشاداب موسیٰ نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد ملک کی تعمیروترقی میں گزشتہ 1400 سالوں میں اسلام اورمسلمانوں کی جانب سے انجام دی گئی ہمہ جہت تاریخی خدمات کوعوام تک پہنچانا ہے تاکہ حقیقی تاریخ عوام و خواص تک پہنچ سکے اورسماج میں تاریخ کی بنیاد پرپنپ رہی دوریوں اورغلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔

انڈیا ہسٹری فورم کے زیر اہتمام نیشنل ہسٹری کانفرنس میں کئی معروف شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جن میں سلمان خورشید ، پروفیسر انیتا رام پال ،پروفیسر این سکمار، پروفیسر سلیم انجینئر ، ڈاکٹر رام پونیانی، عبد السلام پوتگے، ایس ایم عزیزالدین حسینی، ڈاکٹر اشتیاق حسین ، شاہد صدیقی اور پروفیسر اجے گوڈاورتی وغیرہ شامل ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے موجودہ صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پراطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے اور کشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔

جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسر سلیم انجینئر نے مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اور پونڈیچری کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظرمیں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا آئینی حق کے ساتھ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، اس لیے رائے دہندگان روزگار، تعلیم، صحت اورسماجی انصاف جیسے حقیقی مسائل کی بنیاد پرفیصلے کریں اورتفرقہ انگیزسیاست کومسترد کریں۔

یہ اجتماع نہ صرف عید کی خوشیوں کو بانٹنے کا ایک خوشگوار موقع تھا بلکہ امن، انصاف اور معاشرتی ہم آہنگی جیسے اعلیٰ اقدار کو اجاگر کرنے کا بھی سنہری لمحہ ثابت ہوا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاء نے دل کھول کر بات چیت کی اور معاشرے میں باہمی احترام اور ایک ساتھ رہنے کی اہمیت کو محسوس کیا۔

اس موقع پر آپ نے مزید فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں قرآن مجید نازل فرمایا اور اس ماہ کو قران کی تعلیمات پر عمل کی ایک خاص ٹریننگ کے لیے مختص کردیا ہے۔ مسلمان اس مہینے میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ’’واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن بحال کرنے کے لیے نئی اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔

ہندوستان کے عوام فلسطینی مسئلے کو محض ایک جغرافیائی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ہندوستان کی روح ہمیشہ مذہب، جغرافیہ یا سیاسی مصلحت سے بالاتر ہو کر مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ ہندوستان کا یہی تہذیبی مزاج اپنی قیادت کو ناانصافی کے خلاف سچ اور جرات کے ساتھ بولنے کا تقاضا کرتا ہے۔