جماعت اسلامی ہند کی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر انجینئر محمد سلیم۔
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کی اعلیٰ قیادت نے آج منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں مختلف قومی وبین الاقوامی معاملات پراپنے موقف کا اظہارکیا، جن میں آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات، ایس آئی آر، مجوزہ ایف سی آراے ترمیمی بل اورایران کے خلاف جاری جنگ شامل ہیں۔ اس موقع پرجماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسرسلیم انجینئرنے مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اورپونڈیچری کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظرمیں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا آئینی حق کے ساتھ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، اس لیے رائے دہندگان روزگار، تعلیم، صحت اورسماجی انصاف جیسے حقیقی مسائل کی بنیاد پرفیصلے کریں اورتفرقہ انگیزسیاست کومسترد کریں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پرزوردیا کہ وہ دولت، طاقت اورنفرت انگیزبیانیے کے استعمال سے گریزکریں اوراپنی انتخابی مہم کوعوامی فلاح پرمرکوزرکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ شفاف، آزاد اورمنصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے اورضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پرسخت کارروائی کرے۔ پروفیسرسلیم انجینئرنے اس بات پرزوردیا کہ مضبوط جمہوری عمل، شہری آزادیوں کا احترام اورقانون کی پاسداری ہی انصاف، امن اوراستحکام کی ضمانت ہیں اورتمام فریقین کووسیع ترسماجی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔‘‘
ایف سی آراے میں مجوزہ ترامیم پرشدید تشویش
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، ایس امین الحسن نے ’ایف سی آراے‘ میں مجوزہ ترامیم پرشدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں انتظامیہ کوغیرمعمولی اختیارات فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے خصوصاً اس شق پر اعتراض کیا جس کے تحت انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی مالی امداد سے قائم اداروں،جیسے اسکول، اسپتال اورفلاحی تنظیموں کے اثاثوں پرکنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر واضح نگرانی کے اختیارات کا ارتکاز سول سوسائٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اورمعمولی کوتاہیوں کو بھی بنیاد بنا کراداروں کو ہراساں کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ سماجی اداروں میں شفافیت اورجوابدہی ضروری ہیں، تاہم یہ ترامیم اداروں کے کام میں غیر ضروری مداخلت اورعدل وانصاف کے اصولوں سے متصادم ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مجوزہ ترامیم پر وسیع مشاورت کی جائے اور بل میں مناسب ترامیم کی جائیں تاکہ عوامی اعتماد اورفلاحی اداروں کی فعالیت برقراررہ سکے۔‘‘
ایس آئی آرسے متعلق اظہارتشویش
پروفیسرسلیم انجینئرنے بالخصوص مغربی بنگال اوردیگرریاستوں میں ’ایس آئی آر‘ کے جاری عمل پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ عوام کوووٹرلسٹ میں نام شامل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پرزوردیا کہ وہ اس عمل کوشفاف، منصفانہ اورسب کے لیے قابلِ رسائی بنائے اوراملا کی غلطیوں اوردفتری کوتاہیوں کی بنیاد پر لوگوں کوحق رائے دہی سے محروم نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اوردیگرادارے مل کراس عمل میں عوام کی مدد کریں۔ پروفیسرسلیم انجینئرنے بتایا کہ جماعتِ اسلامی ہند اس سلسلے میں تربیتی پروگرام، ورکشاپس اوررضاکاروں کی تیاری، ہیلپ سینٹرزکے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کا کام کررہی ہے۔ ملک بھرمیں ہیلپ سینٹرزاورہیلپ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں، جن کے ذریعے اب تک لاکھوں افراد کی مدد کی جا چکی ہے۔‘‘
ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل کی فوجی کارروائی پرجماعت اسلامی نے اٹھایا سوال
ایس امین الحسن نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے شہری علاقوں، بشمول اسکولوں، اسپتالوں اوررہائشی بستیوں پرحملوں کی اطلاعات پرگہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع اوربنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جوبین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا عالمی سطح پرجوابدہی طے ہونی چاہئے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، مذاکرات اورسفارتی حل پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران کواپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مگرتمام فریقین کوتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے حکومتِ ہند سے بھی اپیل کی کہ وہ کشیدگی میں کمی اورپُرامن حل کے لیے فعال کردارادا کرے۔ کانفرنس میں جماعت کےقائدین نے صحافیوں کے متعدد سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



