Jamaat-e-Islami Hind Delegation: جماعت اسلامی ہند کے وفد کی نیپال دورے سے واپسی، نیپال کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کا منصوبہ
مرکز کے میڈیا ہال میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی نے کہا کہ نیپال میں آنے والی تباہی کا پیمانہ انتہائی وسیع ہے اور اس وقت پہلی ترجیح متاثرہ خاندانوں تک خوراک، طبی سہولیات، صاف پانی اور دیگر ضروری امداد پہنچانا ہے۔
Jamaat-e-Islami Hind Expresses Regret Over Nepal Floods:نیپال میں تباہ کن سیلاب پرجماعت اسلامی ہند کے نائب امیرکا اظہارِافسوس
جماعت کے نائب امیر نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس ہولناک سانحے کے وقت ہماری ہمدردیاں نیپال کے عوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ لوگوں کی سلامتی اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
Educational Seminar on the theme School of Life: تعلیم کردار، تہذیب اور روح کی تشکیل کرتی ہے، ’اسکول آف لائف: تعلیم پرغوروفکر‘رحمت النساء کا اظہارخیال
سمینارمیں اس پربھی غورکیا گیا کہ حقیقی معنوں میں ایک تعلیم یافتہ انسان ہونے کا مفہوم کیا ہے اورتعلیم فرد کی فکری نشوونما کے ساتھ اس کے اخلاق، رویے اور معاشرتی ذمہ داریوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
وندے ماترم نہیں ہوسکتا حب الوطنی کا معیار، جماعت اسلامی ہند کے سینئر عہدیداران نے قومی وقار کی توہین بل 2026 پر کیا نظر ثانی کا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے نائب امیر ملک معتصم خان اور پروفیسر سلیم انجینئر نے حکومت کی طرف سے قومی وقار کی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت اورمختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
Jamat-E-Islami Hind: جماعت اسلامی ہند کا عمرخالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید پر گہری تشویش کا اظہار، نائب امیر نے ضمانت کے جلد از جلد تصفیے کا کیا مطالبہ
ملک متعصم خان نے کہا کہ ہم متعلقہ عدالتوں اور استغاثہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ آئینی آزادیاں ہمارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہمارے جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کو متاثر کرتی ہے۔
جماعت اسلامی کا دہلی آتشزدگی سانحہ پر اظہارتعزیت، سلیم انجینیئر نے سخت سیکورٹی انتظامات اورجواب دہی کا کیا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینیئر نے مزید کہا کہ اس قسم کی سنگین کوتاہیاں عام شہریوں، طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور سیاحوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں، خاص کر گنجان آبادی والے شہری علاقوں میں صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں قابل ستائش ہیں، لیکن طویل مدتی حفاظتی اقدامات کو ترجیح دینا بھی نہایت ضروری ہے۔
Assembly Elections 2026: پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن سے متعلق جماعت اسلامی نے اٹھایا بڑا قدم، فرقہ وارانہ سیاست اورحقیقی ایشوزسے متعلق عوام سے کی یہ بڑی اپیل
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسر سلیم انجینئر نے مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اور پونڈیچری کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظرمیں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا آئینی حق کے ساتھ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، اس لیے رائے دہندگان روزگار، تعلیم، صحت اورسماجی انصاف جیسے حقیقی مسائل کی بنیاد پرفیصلے کریں اورتفرقہ انگیزسیاست کومسترد کریں۔
Jamat-E-Islami Hind on US-Israel-Iran War: جماعت اسلامی ہند نے ایران پرحملہ کے لئے اسرائیل-امریکہ پراٹھایا سوال، ہندوستانی حکومت سے کیا یہ بڑا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مغربی ایشیا کی جنگ پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل کی طرف سےجاری مشترکہ فوجی کارروائیوں پراپنی شدید تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے قومی خودمختاری اورعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
Jamaat-e-Islami Hind: ایران پر اسرائیل-امریکہ حملے کی جماعت اسلامی ہند نے کی سخت مذمت، کہا-’’خطے میں شدید کشیدگی پھیلنے کا خطرہ‘‘
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے مشترکہ فوجی حملے ایران کی قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ ایسے وقت میں جب یہ خطہ پہلے ہی سے عدم استحکام اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے، یہ فوجی کارروائی کشیدگی میں مزید اضافہ اور عام شہریوں کی مشکلات کا سبب بنے گی۔
Jamat-E-Islami Hind: مدھیہ پردیش میں ہزاروں خواتین کی گمشدگی تشویش ناک، جامع لائحۂ عمل کی ضرورت: رحمت النساء
جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی قومی سکریٹری رحمت النساء نے ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی بے حسی، فحاشی اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس کے تدارک کے لیے ذمہ دار میڈیا طرزِ عمل اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے۔





