Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے توپسیا کے عوام سے ملاقات کے دوران جماعت کی جانب سے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اس موقع پر ای پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے مسئلے کے قانونی پہلوؤں پر متاثرین اور وکلا سے گفتگو کی اور مستقبل میں قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں مقامی افراد کو قانونی امداد کا بھروسہ دلایا ۔

عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی جانب سے’’ماحولیاتی بحران: اخلاقی ذمہ داریوں کا امتحان‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ماہرین ماحولیات، اساتذۂ کرام، سماجی کارکنان اورماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ مباحثے میں انسانیت کودرپیش ماحولیاتی چیلنجز اوران سے نمٹنے کے لئے اخلاقی ذمہ داریوں پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔

مغربی بنگال میں مدارس میں ”وندے ماترم“ گانے کو لازمی قرار دینے کے معاملے پر جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان نے بھی کھل کر اپنی رائے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی مخصوص گیت کو زبردستی گانے پر مجبور کرنا جمہوری اقدار اور آئینی آزادی کے خلاف ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے عزیزوں کو اس سانحے میں کھو دیا ہے۔ ہم آفات سے متاثرہ تمام افراد کے ساتھ اپنی دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کوحق رائے دہی سے محروم کئے جانے اورسرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزبیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کوخراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کی ماہ اپریل میں منعقدہ مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی سنگین ہوتی صورت حال ، ہندوستان کے موجودہ داخلی حالات کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔ اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کومعاشی ترقی کے مواقع حاصل ہوں اورصنعتی ترقی کے عمل میں مزدوروں کی فلاح وبہبود کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ نوئیڈا کی یہ صورتحال مزدوروں، صنعت اور ریاست کے درمیان باہمی گفت وشنید اور اعتماد کی کمی کو بھی ظاہرکرتی ہے۔

نمائش کے ذریعے ہندوستان میں اسلام اورمسلمانوں کی تاریخ کو ایک متوازن اورحقائق پرمبنی نقطۂ نظرکے ساتھ پیش کیا گیا۔ انڈیا ہسٹری فورم کے کنوینرڈاکٹرشاداب موسیٰ نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد ملک کی تعمیروترقی میں گزشتہ 1400 سالوں میں اسلام اورمسلمانوں کی جانب سے انجام دی گئی ہمہ جہت تاریخی خدمات کوعوام تک پہنچانا ہے تاکہ حقیقی تاریخ عوام و خواص تک پہنچ سکے اورسماج میں تاریخ کی بنیاد پرپنپ رہی دوریوں اورغلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔