Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:"ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

جماعت اسلامی ہند نے میمورنڈم کے ذریعے جو اہم مطالبات پیش کیے ہیں ۔ان میں حکومت سے انہدامی کاروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ شامل ہے۔ ‎جماعت اسلامی ہند نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت نے کہا کہ 30 جولائی 2026 کی مقررہ آخری تاریخ قریب ہے، اگر انتظامیہ اپنے انہدامی فیصلے پر عمل کرتی ہے تو یہ طلبہ برادری کے لیے سنگین نا انصافی ہوگی۔

‎جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے۔

جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور ان کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔

جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

قطری سفیرمحمد حسن جابرالجاسرنے امیرجماعت کی آمد، اظہارِتعزیت اوردعاؤں پرشکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خیر سگالی، باہمی احترام اورتعاون کے جذبات کو مزید فروغ دینے کی امید ظاہرکی۔ وفد میں معاون قیم جماعت سید محی الدین شاکر اور اسسٹنٹ سکریٹری ڈاکٹر رضوان رفیقی شریک تھے۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیورو کریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے، جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔

لکھنؤ کے کوچنگ سینٹر میں آتشزدگی سانحہ پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسر سلیم انجیئر  نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تعلیمی و تجارتی اداروں میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔