Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

سید سعادت اللہ حسینی نے ایران پر نئے امریکی حملوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سفارتی عمل اور امن و استحکام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز سے دنیا بھر کے لوگوں میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطہ تصادم سے نکل کر امن کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن حالیہ فوجی کارروائی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

قطری سفیرمحمد حسن جابرالجاسرنے امیرجماعت کی آمد، اظہارِتعزیت اوردعاؤں پرشکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خیر سگالی، باہمی احترام اورتعاون کے جذبات کو مزید فروغ دینے کی امید ظاہرکی۔ وفد میں معاون قیم جماعت سید محی الدین شاکر اور اسسٹنٹ سکریٹری ڈاکٹر رضوان رفیقی شریک تھے۔

اسدالدین اویسی، سلمان خورشید اورمحب اللہ ندوی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہی اجلاس میں شریک ہونا اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت بھی اس اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں اورمتعدد مسلم تنظیمیں پہلے بھی یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اوربعض کارروائیاں قانون کے دائرے سے ہٹ کر کی جا رہی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیورو کریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے، جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔

لکھنؤ کے کوچنگ سینٹر میں آتشزدگی سانحہ پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسر سلیم انجیئر  نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تعلیمی و تجارتی اداروں میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انجینئر محمد سلیم نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا کم ازکم 6 فیصد تک خرچ کیا جائے اور عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنماؤں نے امریکہ-ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروائیوں، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔

‎امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے ذمہ داروں کے احتساب اور حکومتِ ہند سے سخت سفارتی اقدام کا کیا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے توپسیا کے عوام سے ملاقات کے دوران جماعت کی جانب سے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اس موقع پر ای پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے مسئلے کے قانونی پہلوؤں پر متاثرین اور وکلا سے گفتگو کی اور مستقبل میں قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں مقامی افراد کو قانونی امداد کا بھروسہ دلایا ۔

عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی جانب سے’’ماحولیاتی بحران: اخلاقی ذمہ داریوں کا امتحان‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ماہرین ماحولیات، اساتذۂ کرام، سماجی کارکنان اورماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ مباحثے میں انسانیت کودرپیش ماحولیاتی چیلنجز اوران سے نمٹنے کے لئے اخلاقی ذمہ داریوں پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔