Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

سید سعادت اللہ حسینی نے رمضان کو صبر کا مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہے، چاہے بیرونی دباؤ ہو یا اندرونی خواہشات کا زور۔ انہوں نے کہا کہ روزہ بھوک، پیاس، مصروفیات اور توجہ بٹانے والے عوامل کے باوجود ضبطِ نفس کی تربیت دیتا ہے تاکہ انسانی زندگی نفس کے بجائے اللہ کے احکام کی تابع ہو۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے یو جی سی ایکوئٹی گائیڈ لائنز پر سپریم کورٹ کے اسٹے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ (لکھنؤ بنچ) کے 16 جنوری 2026 کو سنائے گئے حالیہ فیصلے کا جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ  (ایم ٹٰ بی ) نے خیر مقدم کیا  ہے۔ اس فیصلے میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے آئینی حقوق کی توثیق کی گئی ہے اور اتر پردیش میں غیر منظور شدہ (غیر تسلیم شدہ) مدارس کے کام کاج سے متعلق قانونی صورتِ حال کو واضح کیا گیا ہے۔

 جماعت اسلامی ہند نے یونین بجٹ 2026–27 کے لیے وزارت خزانہ کو تفصیلی تجاویز پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں روزگار میں تیزی لانے، دولت کی منصفانہ تقسیم اور بنیادی ضرورت کے مطابق  ترقی کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی ہند ، سید سعادت اللہ حسینی نے، معروف صحافی پرواز رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں کہا کہ پرواز رحمانی کا انتقال نہ صرف صحافت کے شعبے میں بلکہ مجموعی طور پر ملک و ملت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے وینزویلا کے خلاف امریکہ کی جانب سے کی گئی حالیہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک اور جارحانہ اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کو مجروح کرتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اراؤلی پہاڑی سلسلے کے تحفظ سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے  کہ ناقص اور غلط پالیسی راجستھان، دہلی ، این سی آر اور شمالی بھارت کے وسیع علاقوں کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بنگلہ دیش میں بگڑتی ہوئی سیاسی، سماجی اور سکیورٹی کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔انہوں  نے بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ذمہ داری، تحمل اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ ملک میں امن، استحکام اور عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔

جماعت اسلامی ہند کے " شعبہ برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘ کی جانب سے ایک دوروزہ پروگرام بعنوان’ آل انڈیا کمیونل ہارمونی کو آرٹینیٹرز میٹ‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کی تقریباً 20 ریاستوں سے زمینی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے مرد و خواتین نے شرکت کی۔

پروفیسرسلیم انجینئرنے سول سوسائٹی، رہائشی گروپس، ماحولیاتی کارکنوں اورنوجوانوں کے پلیٹ فارموں سے بھی اپیل کی کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اورمتعلقہ حکام سے جواب دہی یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کوبھی ماحول دوست طرزِعمل اپنانا چاہئے اورکمیونٹی کے ساتھ مل کرشجرکاری کوفروغ دینا چاہئے۔