Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند دیگر انصاف پسند تنظیموں واداروں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی قانون کے مکمل خاتمے تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئینی اصولوں اور مسلمانوں کے تحفظات کی روشنی میں اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔

پروگرام میں  شامل ہونے والی اہم شخصیات میں پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے جناب مرزبان زئی والا ، روی داس سماج کے  سنت ویر سنگھ ہتکاری، بدھ مذہب کے یَشی فنت شوک،  یہودی مذہب کے ایزی کیل مالیکر، برہما کماری تنظیم سے وابستہ بہن حسین  اور بہائی مذہب کے نیلا کشی راج کھوا شامل تھے۔

جماعت اسلامی کی ٹیم نے سکھ قائدین، گورنمنٹ نوڈل افسران اور متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کیں اور ان کی فوری ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ متاثرہ افراد سے بات چیت میں سیلاب زدگان کو بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت اور طریقہ کار پر گفتگو کی گئی۔

لینڈ سلائیڈ، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے ایک جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں واضح معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP's) طے کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘

جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

کانفرنس میں کلیدی خطبہ جنوبی نیوہیمپشائریونیورسٹی اورسینٹ لیویونیورسٹی میں انڈیا فیکلٹی کی سپروائزرڈاکٹرسنگیتا سکسینہ نے پیش کیا۔ انہوں نے بہار اوربنگال کی مستند تاریخی دستاویزوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم خواتین کی ان خدمات کا واضح نقشہ پیش کیا، جوانہوں نے آزادی ہند کی جدوجہد، تعلیمی شعبے، سماجی اصلاحات، ادب اورتجارت کے میدانوں میں انجام دیں ہیں۔

اوڈیشہ جنسی ہراسانی معاملہ پر قومی سکریٹری رحمۃ النسا نے حکومت سے عدالتی جانچ کا کیا مطالبہ۔ بالا سور کے فکیر موہن کالج کی 20 سالہ طالبہ نے جنسی ہراسانی مقدمہ میں انصاف نہ ملنے کے بعد خود کو آگ لگا کر اپنی جان دے دی تھی ۔

کانفرنس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اوردانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سوامی سشیل گوسوامی مہاراج ، سوامی سروالوکا نند ،فادر ناربرٹ ہرمین، ربی ازاکیل اساک مالیکر، مرزبان ناریمن زائوالا اورسسٹر بے کے حسین نے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔