Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ ملک میں مسلسل اس قسم کے سانحات کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے اورپبلک انفراسٹرکچر اور تحفظ کے نظام کی کمزوریوں کی علامت ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دونوں حادثات کی شفاف اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے حالیہ دنوں تلنگانہ میں ہونے والے فیکٹری کے ہولناک دھماکے ، پوری میں رتھ یاترا کے دوران افسوسناک بھگدڑ اور احمدآباد میں المناک فضائی حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔

پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، لیکن جس طرح سے ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں ہے، یہ ملک کے لئے اورہماری جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پروفیسرسلیم انجینئر نے کہا کہ ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچرکے منشور پر دستخط کئے ہیں جو 'ریفیولمنٹ' یعنی کسی شخص کی ایسی جگہ جبری واپسی کی ممانعت کرتا ہے، جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے روہنگیا کو نسل کشی کا شکار قرار دیا ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اس تنازعے میں اپنے عزیزوں کو کھویا۔ ہم حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں اور کمیونٹیوں کو پیش آئے معاشی نقصان اور ذرائع روزگار کی تباہی کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

امیر، جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ ہم جنوبی کشمیر کے پہلگام میں منگل کے روزہونے والے بدترین دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں بے گناہ جانوں کا جانا، جن میں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔

جماعت اسلامی ہند مجلس نمائندگان نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے منصفانہ عالمی معاشی نظام کا قیام، آئینی واخلاقی اقدارکے تحفظ پرزور دیا اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کی۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کی جانب سے انڈیا انٹرنیشنل سیٹر میں ایک پُر وقار عید ملن تقریب کا انعقاد، 15 سے زائد ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ، مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے رہنما، مذہبی شخصیات اور سول سوسائٹیز، سیاسی و سماجی اور تعلیمی تنظیموں و اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی