Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پروفیسرسلیم انجینئر نے کہا کہ ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچرکے منشور پر دستخط کئے ہیں جو 'ریفیولمنٹ' یعنی کسی شخص کی ایسی جگہ جبری واپسی کی ممانعت کرتا ہے، جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے روہنگیا کو نسل کشی کا شکار قرار دیا ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اس تنازعے میں اپنے عزیزوں کو کھویا۔ ہم حکومتِ ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرے اور خاص طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں اور کمیونٹیوں کو پیش آئے معاشی نقصان اور ذرائع روزگار کی تباہی کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

امیر، جماعت اسلامی ہند، سید سعادت اللہ حسینی نےکہا کہ ہم جنوبی کشمیر کے پہلگام میں منگل کے روزہونے والے بدترین دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ اس حملے میں بے گناہ جانوں کا جانا، جن میں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔

جماعت اسلامی ہند مجلس نمائندگان نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے منصفانہ عالمی معاشی نظام کا قیام، آئینی واخلاقی اقدارکے تحفظ پرزور دیا اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کی۔

جماعت اسلامی ہند نے نئے ترمیمی قانون پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ ترمیمات، شہریوں کے بنیادی حقوق کے سراسرخلاف اور ہندوستان میں وقف کے مذہبی اور فلاحی کردارکو متاثر کرنے والی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کی جانب سے انڈیا انٹرنیشنل سیٹر میں ایک پُر وقار عید ملن تقریب کا انعقاد، 15 سے زائد ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندوں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ، مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے رہنما، مذہبی شخصیات اور سول سوسائٹیز، سیاسی و سماجی اور تعلیمی تنظیموں و اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا ’’یہ بل جس نے اب قانونی حیثیت حاصل کر لی ہے، مذہبی امتیازاورجانبداریت پرمبنی ہے، اسے اقلیتی حقوق کے لیے ایک سیاہ باب کے طور پر جانا جائے گا۔ یہ قانون ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میں نے اس موقع پر استقامت اور جدوجہد کا خاص طور پر اس لیے تذکرہ کیا ہے کیونکہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں صفات یعنی استقامت اور جدو جہد کی ہمیں خاص طور پر ضرورت ہے۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سلیم نے اپنی مختصر و جامع گفتگو میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے عوام کو حوصلہ بخش پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا حقیقی محافظ تو اللہ تعالیٰ ہے، ہمیں اسی سے امید رکھنی چاہیے اور مایوسی کو ترک کرنا چاہیے۔