Bharat Express DD Free Dish

Jmaat-e-Islami Hind Calls for urgent Public Safety Reforms: ملک میں بڑھتے حادثات کے تناظر میں جماعت اسلامی ہند کا اظہارتشویش، عوامی تحفظ کے لئے سیفٹی کوڈ بنانے کا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے حالیہ دنوں تلنگانہ میں ہونے والے فیکٹری کے ہولناک دھماکے ، پوری میں رتھ یاترا کے دوران افسوسناک بھگدڑ اور احمدآباد میں المناک فضائی حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہارکیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے انجینئر محمد سلیم۔ ساتھ میں محمد شفیع مدنی اور محمد سلمان۔

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران احمد آباد، پوری اورتلنگانہ میں تین بڑے حادثات پیش آئے ہیں۔ یہ حادثات ایک بڑے قومی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں اور عوامی تحفظ سے متعلق بنیادی خامیوں پر فوری غور و فکر کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے فوری اقدام جیسا کہ معاوضے اورانکوائریوں کے اعلان کو سراہتے ہیں لیکن یہ اقدامات ان انتظامی اور ادارہ جاتی سنگین خامیوں کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں جو ایسے سانحات کے باربار وقوع پذیرہونے کا سبب بنتے ہیں۔

تلنگانہ میں دوا فیکٹری میں دھماکہ کے متاثرین سے اظہارتعزیت
پروفیسرانجیئرسلیم نے کہا کہ 30 جون 2025 کو تلنگانہ میں سگاچی انڈسٹریزکی دوا ساز فیکٹری میں ہونے والے دھماکے میں 40 مزدور جاں بحق ہوئے جبکہ کئی شدید طور سے زخمی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں پرانی مشینری، تکنیکی کمزوریاں اور حفاظتی انتظامات کی سنگین کوتاہیاں سامنے آئی ہیں۔ صرف ایک دن قبل پوری کے گنڈیچا مندر کے قریب بھگدڑ میں تین شردھالو(عقیدت مند) جاں بحق اور50 سے زائد زخمی ہوئے ۔یہ المناک حادثہ بڑے مذہبی اجتماعات کے دوران اکھٹا ہونے والی بھیڑکے موثرانتظامات کی اشد ضرورت کوظاہرکرتا ہے۔ اسی طرح احمد آباد کا درد ناک فضائی حادثہ شہری ہوا بازی کے شعبے میں نگرانی اورہنگامی تیاری کے نظام کی خامیاں اجاگر کرتا ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ملک میں صنعتی آتشزدگیاں، شہری ڈھانچے کا انہدام اور عوامی اجتماعات میں بھگدڑ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حادثوں سے کام کرنے کے مقامات، تہواروں اور روزمرہ زندگی میں تحفظ کے بارے میں گہری تشویش پیدا ہوئی ہے۔ ان حادثات کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند قومی مفاد میں درج ذیل تجاویز پیش کرتی ہے۔ عوامی تحفظ سے متعلق قوانین، پالیسیوں اور ہنگامی ضوابط کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔

سیفٹی کوڈ وضع کرنے پر جماعت اسلامی کا خصوصی زور
ملک گیرسطح پر ایک متحد اورقابلِ نفاذ سیفٹی کوڈ وضع کیا جائے جسے تمام صنعتوں، تقریبات اورعوامی ڈھانچوں پرلاگوکیا جا سکے، اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا واضح نظام بھی عمل میں لایا جائے۔ بڑے مذہبی، ثقافتی اورشہری ٹرانزٹ کے مواقع پر ہجوم کو قابو کرنے اور شہری ہوا بازی کے ضوابط کو جدید خطوط پراستوارکیا جائے۔ مقامی اورقومی سطح پربڑے عوامی اجتماعات کی نگرانی، ابتدائی انتباہی نظام اورآفات سے بچاؤ کے یونٹ مضبوط اوروسائل سے لیس کیے جائیں۔ حفاظتی منصوبہ بندی اورآڈٹ کے عمل میں مزدوروں کی نمائندگی اور کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ضوابط بنانے والے اداروں اورحفاظتی انسپکٹروں کوانتظامی اورسیاسی دباؤسے آزاد اور موثر کارروائی کے لیے بااختیاربنایا جائے۔ سیاسی قیادت اور متعلقہ حکام کواخلاقی اورانتظامی سطح پر مکمل جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

اسرائیلی جارحیت سے مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ: جماعت اسلامی
اسرائیلی جنگی جرائم کے تسلسل اور ایران پرحالیہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ غزہ میں جاری نسل کشی، اسرائیل کے غیر قانونی قبضے اور اس کی غیر انسانی نسلی امتیاز پر مبنی پالیسیوں نے انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کر لیا ہے۔ روٹی کے انتظار میں کھڑے بھوکے شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنانا تاریخ کے بدترین مظالم میں شمار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اسرائیل کے حالیہ حملے ایران کے خلاف نسل کشی کے اس وسیع منصوبے کا حصہ ہیں۔ یہ حملے ایک خودمختار ملک کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی ہیں۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سیاسی منافقت کو ترک کرتے ہوئے نسل کشی کی حقیقت کو تسلیم کرے۔ اور اس نسل کشی کا موثر جواب دے۔ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

منی پورمیں دوبارہ تشدد ہونے پراظہارتشویش
منی پور میں دوبارہ شروع ہونے والے تشدد پر جماعت اسلامی ہند کے قومی سیکریٹری مولانا شفی مدنی نے اپنی گہری تشویش اور رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا امپھال میں حالیہ پرتشدد کارروائیاں، جن میں آگ زنی، توڑ پھوڑ، اور سیکیورٹی فورسزپرحملے شامل ہیں، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مسلح انتہا پسند گروہوں کا وادی میں کتنا خطرناک اثر و رسوخ قائم ہو چکا ہے۔ ان گروہوں کوحاصل سیاسی سرپرستی اوربلا امتیازان کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں متاثرہ خاندان اب بھی بے گھر، خوفزدہ اورذہنی طورپرصدمے کا شکار ہیں۔اس بحران کی وجہ سے منی پور کے بچوں کی تعلیم، روزگاراوربنیادی خدمات بری طرح متاثرہوئی ہیں۔ جماعت اسلامی ہند نے اپنے اس دیرینہ مطالبے کو دہرایا کہ تمام غیر قانونی عناصر کو غیر مسلح کیا جائے، نفرت پر مبنی نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے اوربے گھر افراد کی مکمل باز آبادکاری کی جائے۔ مولانا شفی مدنی نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کی خاموشی ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم اوروزیر داخلہ کواس انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری، مضبوط اور نتیجہ خیز اقدام کرنا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read