Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع  تاریخی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ چاپلوسی اور سیاسی غلامی کا ایک بدترین مظاہرہ تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سہارنپور کے افسران نے دنیا کے سامنے اپنی متعصبانہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرکے آخر کیا حاصل کیا ؟ یہ پورا واقعہ ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے اور اقلیتی حقوق کے تعلق سے ملک کی قیادت کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ نائب امیر ایس امین الحسن نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزراء، اعلیٰ سرکاری افسران اوردیگر بااثرشخصیات پربدعنوانی کے حالیہ الزامات اخلاقی اقدار اور جوابدہی کے گہرے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بدعنوانی اب صرف سیاست، بیورو کریسی یا کاروباری دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ ان اداروں تک بھی پہنچ چکی ہے، جن پرلاکھوں افراد اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیں۔

مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین انجینئر محمد سلیم نے مطالبہ کیا کہ تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا کم ازکم 6 فیصد تک خرچ کیا جائے اور عوامی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنماؤں نے امریکہ-ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروائیوں، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان جمعرات کی شب تین روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکہ پہنچے تھے۔ جمعہ کو انہوں نے خلیل الرحمٰن کے ہمراہ روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کا بھی دورہ کیا۔

عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ خواتین کی جانب سے’’ماحولیاتی بحران: اخلاقی ذمہ داریوں کا امتحان‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن قومی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں ماہرین ماحولیات، اساتذۂ کرام، سماجی کارکنان اورماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکنان نے شرکت کی۔ مباحثے میں انسانیت کودرپیش ماحولیاتی چیلنجز اوران سے نمٹنے کے لئے اخلاقی ذمہ داریوں پرتبادلۂ خیال کیا گیا۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے واضح کیا کہ مجوزہ حلقہ بندی کا عمل خود بھی سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ صرف آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندی ملک کے وفاقی توازن کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے مختلف خطوں کے درمیان علاقائی عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کا عمل جلد بازی میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام ریاستوں، سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کے اتفاق رائے سے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کومعاشی ترقی کے مواقع حاصل ہوں اورصنعتی ترقی کے عمل میں مزدوروں کی فلاح وبہبود کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ نوئیڈا کی یہ صورتحال مزدوروں، صنعت اور ریاست کے درمیان باہمی گفت وشنید اور اعتماد کی کمی کو بھی ظاہرکرتی ہے۔

بنگلہ دیش میں اقتدار کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ 17 سال لندن میں قیام کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان ہفتہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں۔ طویل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور سیاسی غیر یقینی کے بعد ان کی واپسی کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔