جماعت اسلامی ہند کی پریس کانفرنس موب لنچنگ اور بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھایا۔
نئی دہلی: ملک میں مسلمانوں کے خلاف جماعت اسلامی ہند علی گڑھ میں چارمسلم گوشت تاجروں پرہولناک حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک مشتعل ہجوم نے ان افراد کوروک کران کے کپڑے اتاردیئے اوربیلٹ وڈنڈوں سے بری طرح پیٹا، جس سے وہ لہولہان اورشدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئے۔ جماعت اسلامی ہند کی ماہانہ پریس کانفرنس میں نائب امیرانجینئرسلیم نے پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔ اس موقع پرنائب امیرملک معتصم خان اورقومی اسسٹنٹ سکریٹری، شعبہ میڈیا سلمان احمد بھی موجود تھے۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پولیس نے حملہ آوروں اورمتاثرین دونوں کے خلاف گئو کشی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئےانجینئرسلیم نے کہا کہ ہیں۔ یہ انصاف کا صریحاً قتل ہے اوران مجرموں کی پشت پناہی ہے، جنہوں نے قانون کواپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ ایسے اقدامات ان شرپسند عناصرکومزید حوصلہ دیتے ہیں، جوسمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی جرم کے بعد سزا سے بچ نکلیں گے۔ یہ کوئی اکیلا واقعہ نہیں۔ ملک میں گزشتہ برسوں سے’گئو رکشا ‘ یا ’لو جہاد‘ کی آڑمیں مسلمانوں، دلتوں اوردیگر پسماندہ طبقات کے خلاف ہجومی تشدد اورنفرت انگیزجرائم کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی کرناٹک کے بنٹوال میں عبدالرحمن کا قتل، کبھی منگلورمیں اشرف کا بہیمانہ قتل، کبھی ناگپورمیں فرقہ وارانہ تصادم، توکبھی کشمیری مسلمانوں کوملک بھرمیں نشانہ بنانا۔ یہ سب ہمارے قومی وقارپرایک بد نما داغ ہے۔
ملک کے سیکولرجمہوری ڈھانچہ کو کھوکھلا کرنے کی کوشش: جماعت اسلامی
اگرچہ سپریم کورٹ نے 2018 میں ہجومی تشدد کے خلاف فیصلہ دیا تھا، لیکن اس پرعمل درآمد انتہائی لچراورناقص رہا ہے۔ ایسے معاملوں میں مجرموں کو سزا شاذونادرہی ملتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند مطالبہ کرتی ہے کہ بھارتیہ نیائے (دوسرا) سنہیتا 2023 کے تحت ہجومی تشدد کے خلاف دفعات کوسختی سے نافذ کیا جائے اورمجرموں کوعمرقید یا سزائے موت جیسی مثالی سزائیں دی جائیں تاکہ شرپسندوں میں خوف پیدا ہواورسماج سے قانون شکنی کا ماحول ختم کیا جا سکے۔ ہم آگاہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنانا نہ صرف ہمارے سیکولر جمہوری ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ بھارت کے اتحاد وسلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری اور سخت اقدام کرے، مجرموں کو سزا دے، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اورعدل وقانون کی بالادستی بحال کرے۔ ہم تمام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نفرت کومسترد کردیں، انسانی وقارکومقدم رکھیں اورامن وانصاف پرمبنی معاشرے کی تشکیل میں اپنا فعال کردارادا کریں۔
ملک میں بلڈوزرکارروائی کو جماعت اسلامی نے ناانصافی قرار دیا
جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس (جو علم کے مراکزاورکمیونٹی کی معاونت کے ادارے ہیں) کوکمزوروجوہات کی بنیاد پرانہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد کے ضلع بہرائچ اورشراوستی کے حالیہ دورے میں ان حقائق کا انکشاف ہوا ہے کہ کئی مدارس جن کے پاس قانونی رجسٹریشن اورمنظوری موجود تھی، انہیں بھی بغیرکسی قانونی کارروائی کے سیل یا منہدم کردیا گیا ہے۔ اس طرح کی انہدامی کارروائیاں اکثر’قانون ونظم‘ یا ’غیرقانونی تعمیرات‘ کے نام پرکی جاتی ہیں، لیکن ان کا اصل ہدف اقلیتیں خصوصاً مسلمان ہوتے ہیں۔ بغیرکسی عدالتی فیصلے کے بلڈوزرکوبطورسزا استعمال کرنا پولیس اورانتظامیہ کوجج، جیوری اورجلاد بنا دیتا ہے۔ یہ آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اورہماری جمہوریت کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند سپریم کورٹ کے اس مشاہدے کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ’’محض اس بنیاد پرجائیدادوں کومنہدم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی ملزم کی ملکیت ہیں۔‘‘ ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کویقینی بنایا جائے اورمنمانی انہدامی کارروائیوں کوفوری طور سے روکا جائے۔
مسلم طبقے میں خوف وعدم تحفظ
جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر انجینئرسلیم نے کہا کہ یہ بھی نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ایسی انہدامی کاروائیاں اکثرفرقہ وارانہ فسادات کے بعد ان علاقوں میں عمل میں لائی جاتی ہیں، جہاں اقلیتی طبقات کے گھروں اوراداروں کونشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ فسادات کے مجرم آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ یہ اقدامات مسلم برادری میں خوف وعدم تحفظ کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند ان غیرقانونی بلڈوزر کارروائیوں کوفوراً روکنے، ذمہ دارافسروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اورتمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون کی بالادستی بحال کرے اورآئینی اقدار(مساوات، آزادی اوروقار) کا تحفظ کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


