Savarkar insult Case: راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، عدالت عظمیٰ نے ساورکر معاملے میں کیس کو کردیا منسوخ
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کوویرساورکرکی توہین معاملے میں بڑی راحت مل ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف لکھنوکی عدالت سے جاری سمن کومنسوخ کردیا ہے۔
Ram Mandir Donation Controversy: پارلیمنٹ میں چندے کے بوری لے کرپہنچی سماجوادی پارٹی، اب تک جمع ہوئے ایک لاکھ 57 ہزار، ہنومان مندر میں جمع کرانے کا منصوبہ
سماج وادی پارٹی نے چندہ کی چوری سے متعلق آج ایک بارپھر پارلیمنٹ احاطے میں انوکھا احتجاج کیا۔ ممبران پارلیمنٹ چندے کی بوری لے کرآج پارلیمنٹ پہنچے۔ احتجاج کے دوران ایس پی ایم پی ڈمپل یادو نے کہا، "یہ لوگ سناتن دھرم کی بات کرتے تھے، لیکن انہوں نے آستھا (عقیدت) کے نام پرچوری کی ہے۔"
سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، بیٹی زیبا رضوان اور داماد رمیز نعمت فیروز پپو قتل سانحہ میں بری، عدالت نے 2 کو قصوروار ٹھہرایا
یوپی کے بلرام پور کے سابق رکن پارلیمنٹ اور سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر رضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبا رضوان اور داماد رمیز نعمت کو بلرام پور کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے آج بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بڑی راحت دی ہے۔ فیروز پپو قتل سانحہ میں عدالت نے تینوں کوبری کرتے ہوئے 2 کوقصوروار قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے برہمن سمّیلن کے اسٹیج سے یوگی حکومت کو گھیرا، وکاس دوبے کو یاد کرتے ہوئے کہا- ’’گاڑی پلٹنے سے بچ گئی حکومت‘‘
یوپی اسمبلی الیکشن 2027 سے پہلے برہمنوں کواپنے ساتھ لانے کے لئے سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادونے جنیشورمشرا کی جینتی پربغیرنام لئے وکاس دوبے کویاد کیا اور یوگی حکومت سے متعلق بڑا دعویٰ کیا۔
’’مدارس کودہشت گردی کا اڈہ قراردینا انتہائی غیرذمہ دارانہ‘‘، مولانا سید ارشد مدنی نے یوپی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے ذریعہ مدارس سے متعلق دیئے گئے بیان کی سخت مذمت کی
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جن مدارس پر آج الزامات لگائے جا رہے ہیں، انہی مدارس کے علما نے تحریکِ آزادی میں اہم کردارادا کیا، پھانسی کے پھندے قبول کیے، جیلیں کاٹیں اور برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کی۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور اس کے علما کی قربانیوں کوہندوستان کی آزادی کی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔
اسلحہ لائسنس معاملے میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو بڑی راحت، عدالت نے گرفتاری پرلگائی روک
غازی پور سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کو اسلحہ لائسنس کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ سے عبوری راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کی گرفتاری پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کی گرفتاری پر 10 اگست تک روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے بھی کارروائی طلب کی ہے۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد سی جے پی کا نیا قدم، یوپی میں ہوگا آندولن، جوہر یونیورسٹی کے انہدام کے خلاف اٹھے گی مضبوط آواز
کاکروچ جنتا پارٹی نے ایکس پرلکھا، ’’ملک میں توویسے ہی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 اسکول سے زیادہ روزبند ہورہے ہیں، ایسے میں اترپردیش میں یونیورسٹی کوگرایا جانا مطلب تعلیم کوکچلنے جیسا فیصلہ ہوگا، جو اس ملک کے لئے قطعی درست نہیں ہوگا۔‘‘ سی جے پی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اترپردیش حکومت کواس فیصلے پرپھرسے غورکرنا چاہئے اوراس ملک کو واپس لینا چاہئے۔
Jamaat-E-Islami on Mohammad Ali Jauhar University Demolation Row: محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدامی حکم پرجماعتِ اسلامی نے اٹھائے سوال، تعلیمی اداروں سے متعلق کہی یہ بڑی بات
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام سے متعلق انتظامیہ کے فیصلے نے طلبہ، والدین، اساتذہ اور پورے تعلیمی حلقے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی معاملات اپنی جگہ، لیکن یہ ضروری ہے کہ طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور ان کا مستقبل ہرحال میں محفوظ رکھا جائے۔
Jauhar University Row: جوہر یونیورسٹی معاملے پر کانگریس کا یوگی حکومت پر حملہ، اجے رائے بولے- رام مندر چندہ معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے ر نے کہا کہ اگر حکومت کو اعظم خان سے سیاسی اختلافات ہیں تو یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے بجائے اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور ادارے کو چلا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت تعلیم کے فروغ کے بجائے تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے
Mohammad Ali Jauhar University: اعظم خان کے لئے بڑا جھٹکا، محمد علی جوہر یونیورسٹی پر چلے گا بلڈوزر، رام پور ڈیولیمنٹ اتھارٹی نے جاری کیا حکم
رام پورکے ضلع مجسٹریٹ اجے کماردویدی نے بتایا کہ جوہریونیورسٹی کو پہلے نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے جواب میں انتظامیہ نے تحریری وضاحت بھی پیش کی۔ بعد ازاں تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی 40 عمارتوں میں سے صرف دوعمارتوں کے نقشے منظورشدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتیں بغیرمنظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اسی بنیاد پرانہیں غیرقانونی قراردیتے ہوئے انہدام کا حکم صادرکیا گیا۔





