Bharat Express DD Free Dish

Bulldozer Action

۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔

ساگر میں غیر قانونی شراب پینے سے ہونے والی اموات کے معاملے میں انتظامیہ نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی جانب سے غیر قانونی اور زہریلی شراب کے خلاف زیرو ٹالرنس کی ہدایت کے بعد شراب مافیا سے وابستہ 5 ٹھکانوں پر بلڈوزر کارروائی کی جا رہی ہے۔

اقرا حسن کے مطابق وہ سہارنپور جاکر انتظامیہ کے افسران سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں تاکہ معاملے کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ عوام کی آواز بھی اٹھائی جاسکے، لیکن پولیس نے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے انہیں روکا جائے، اس کے باوجود انہیں ہاؤس اریسٹ کردیا گیا۔

سونمرگ جموں و کشمیر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جہاں حالیہ دنوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انتظامیہ نے کارروائی تیز کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور بے قابو تعمیرات کو روکنے کے لیے یہ کارروائی ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے رہائشی املاک کے ضوابط کے خلاف کمرشئیل استعمال کرنے کے معاملے پر سخت احکامات جاری کیے ہیں۔

گنیش نگر-میگھواڑی علاقے میں کی گئی انہدامی کارروائی پر پیدا ہوئے تنازع کے بعد پروجیکٹ انتظامیہ نے اپنی وضاحت پیش کی ہے۔ DRP نے بغیر پیشگی اطلاع کے لوگوں کو بے دخل کیے جانے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 اگست 2026 کو کی گئی کارروائی مکمل طور پر ضابطے کے مطابق اور ایک طویل قانونی عمل مکمل کرنے کے بعد ہی کی گئی۔

صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔

بدھ کے روز رام پور ضلع انتظامیہ نے اعظم خان کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منظور شدہ نقشوں کے بغیر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید گرما گیا۔

رام پورکے ضلع مجسٹریٹ اجے کماردویدی نے بتایا کہ جوہریونیورسٹی کو پہلے نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے جواب میں انتظامیہ نے تحریری وضاحت بھی پیش کی۔ بعد ازاں تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی 40 عمارتوں میں سے صرف دوعمارتوں کے نقشے منظورشدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتیں بغیرمنظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اسی بنیاد پرانہیں غیرقانونی قراردیتے ہوئے انہدام کا حکم صادرکیا گیا۔

راجکوٹ میونسپل کارپوریشن کی انسدادِ تجاوزات مہم کے اخراجات تنازع کا سبب بن گئے ہیں۔ تین دن تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران صرف چائے، ناشتے اور پینے کے پانی پر 47 لاکھ روپے کا بل سامنے آیا، جسے دیکھ کر افسران بھی حیران رہ گئے۔