Bharat Express DD Free Dish

Bulldozer Action

عرضی میں کہا گیا ہے کہ ‘‘درگاہ حضرت کمال شاہ کو 1982 میں سنّی سنٹرل بورڈ آف وقف، لکھنؤ، اترپردیش کے ساتھ وقف جائیداد نمبر 55 دہرادون کے طور پر رجسٹریشن کیا گیا تھا۔’’

گجرات حکومت کی وزارت داخلہ نے ان بنگلہ دیشیوں کی جھونپڑیوں کو گرانے کا حکم دیا ہے جن کی شناخت غیر قانونی کے طور پر ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اے ایم سی نے غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشیوں کے مکانات گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوگی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نیپال سرحد کے 10 کلومیٹر کے دائرے میں مذہبی یا تعلیمی اداروں پر کسی بھی طرح کا غیر قانونی قبضہ یا غیر قانونی آپریشن برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ یہ معاوضہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں حکومتیں مناسب طریقہ کار کے بغیر لوگوں کے مکانات گرانے سے گریز کریں۔ ججوں نے منظر عام پر آنے والی ایک حالیہ ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک لڑکی اپنی کتابیں لے کر گرتی ہوئی جھونپڑی سے بھاگتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

میونسپل کارپوریشن نے ناگپور تشدد کے اہم ملزم فہیم خان کی غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر کارروائی کی۔ پولیس کی موجودگی میں مکان مسمار کر دیا گیا۔ اب تک 112 گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشددکے بعد کوتوالی، گنیش پیٹھ، تحصیل، لکڑ گنج، پچ پاؤلی، شانتی نگر، سکردرہ، نندن وان، امام باڑہ، یشودھرا نگر اور کپل نگر تھانے کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ کوئی بھی اس طرح کا نوٹس دے گا اور توڑ پھوڑ کرے گا۔ یہ تخریب کاری کا معاملہ ہے جس میں ظلم شامل ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے بھیجنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، لیکن یہاں یہ نوٹس بذریعہ ڈاک بھیج دیا گیا ہے۔

مدنی مسجد کی تحقیقات کے بعد مساجد کے فریقین نے تین نوٹسز کا جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد مسلم فریقوں نے ہائی کورٹ سے 8 فروری تک اسٹے لے کر یوگی کے بلڈوزر پر روک  لگا دی تھی۔

دارلحکومت  بھوپال میں انتظامیہ نے سبھاش نگر مارکیٹ میں تجاوزات ہٹانے کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کی ہے۔ یہاں ایک پل بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے 110 دکانیں ہٹائی جا رہی ہیں۔

13 دسمبر کو ہائی کورٹ میں معاملہ کی سماعت ہونے سے قبل ہی انتظامیہ نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس سے مسلمانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔