Bharat Express DD Free Dish

Bulldozer Action

جموں کے نروال علاقے میں جمعرات کو صحافی عرفاز احمد ڈینگ کا گھر مسمار کیے جانے کے بعد معاملہ گرم ہوگیا ہے۔ سینئر وکلاء اور صحافیوں نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

اترپردیش کے بریلی  میں جے ای منوج یادو نے بتایا کہ نوٹس کے بعد ایک یاد دہانی بھی بھیجی گئی تھی، لیکن غیر قانونی تعمیرات کو نہیں ہٹایا گیا۔

موریشس میں اپنے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ قانون شکنی کے جواب میں کسی ملزم کا مکان مسمار کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے، بالخصوص آئین کے آرٹیکل 21 کی، جو ہر شہری کو زندگی اور رہائش کا بنیادی حق دیتا ہے۔

واضح رہے کہ گول پاڑہ میں کافی عرصے سے تجاوزات ہٹانے کی مہم جاری ہے۔ چار دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ 2021 میں ان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے تقریباً 50,000 لوگوں کو تقریباً 160 مربع کلومیٹر زمین سے بے دخل کیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے  آسام میں مذہبی بنیادوں پر مسلم بستیوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کی شدید مذمت کی ، حکومت سے انصاف اور آئینی اصولوں کی پاسداری کا کیا مطالبہ

رقیب  الحسین ودیا پارہ کا رہنے والا ہے۔ پولیس فورس اور بلڈوزر کے پہنچنے سے پہلے یہاں رہنے والے تمام خاندان اپنے گھروں سے ٹین کی چھتیں ہٹا کر اپنا سارا سامان لے گئے تھے۔ حسین کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا سارا سامان ایک رشتہ دار کے گھر رکھا لیکن رات یہیں رہے۔

یوپی کے بلرام پورمیں غیرقانونی مذہب تبدیلی کے الزام میں گرفتار جمال الدین عرف چھانگربابا کی حویلی پربلڈوزرچلا دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حویلی گرام سبھا کی زمین پربنائی گئی تھی۔ پولیس کی موجودگی میں یہ بلڈوزرکارروائی کی گئی۔

اروند کجریوال نے احتجاج کے دوران خبردار کیا کہ اگر کچی بستیوں کو گرانے کی کارروائی نہ روکی گئی تو اتنا بڑا آندولن ہوگا کہ اس جنتر منتر سے کانگریس کی حکومت کو ہٹا یا گیا، انا کی تحریک چلائی گئی تھی ... ریکھا گپتا کی حکومت 3 سال بھی نہیں چلے گی۔

بٹلہ ہاؤس کے مرادی روڈ بٹلہ ہاؤس علاقے کی 12 جائیدادوں سے متعلق معاملے کی سماعت آج ساکیت کورٹ میں ہوئی۔ عدالت نے ان سبھی 12 معاملوں میں 17 جولائی تک اسٹے آرڈر جاری کردیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند اترپردیش سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں، گھروں اورتعلیمی اداروں خصوصاً مدارس کو غیر قانونی اورغیرانسانی طورپرمنہدم کرنے کے مسلسل عمل کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایک خطرناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ مدارس کو کمزور وجوہات کی بنیاد پر انہدامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔