جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کل مذاہب آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
نئی دہلی: سماج میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اوراس کی روک تھام کےموضوع پرجماعت اسلامی ہند کی جانب سے کل مذاہب آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرانجینئرسلیم نے کی۔ اس کانفرنس میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اوردانشوروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سوامی سشیل گوسوامی مہاراج ، سوامی سروالوکا نند، فادرناربرٹ ہرمین، ربی ازاکیل اساک مالیکر، مرزبان ناریمن زائوالا اورسسٹر بے کے حسین نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔
سماج میں جرم کے خلاف بیداری پیدا کی جائے: انجینئرمحمد سلیم
اپنے صدارتی خطبے میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرانجینئرسلیم نے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم پراپنی سخت تشویش کا اظہارکیا۔ جرائم کی مختلف شکلوں کی نشاندھی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس زمین پرانسان خدا کی سب سے اعلیٰ مخلوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سخت قانون بنا کرجرائم کونہیں روکا جا سکتا۔ جرائم اس وقت تک نہیں رک سکتے جب تک کہ سماج میں جرم کے خلاف بیداری نہ پیدا کی جائے۔ جرائم بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنا مقصد حیات بھول گیا ہے۔ انسانی وقارکا تحفظ تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں موجود ہے، لیکن ان سب کے باوجود انسان جرائم کی گندگی میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم سماج میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انسانی رشتوں کی پامالی ہورہی ہے۔ طاقتورکمزورکےخلاف جرم میں ملوث ہے۔ عورتوں اوربچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ بیوی شوہرکو اورشوہربیوی کوقتل کررہا ہے۔ یہاں تک کہ بزرگوں کےخلاف گھناؤنے قسم کے جرائم سامنے آ رہے ہیں۔پروفیسرانجینئرسلیم نے کہا کہ حکومت کی پشت پناہی میں ہونے والے جرائم زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں۔ حکومت کوچاہئے کہ وہ جرائم پیشہ عناصرکی پشت پناہی بند کرے۔
جرائم کو روکنے میں میڈیا کے رول پر تبادلہ خیال
انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کونشرکرے، جس سے جرائم کوروکنے میں مدد ملے۔ عدالت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اصل مجرم کوجلد سے جلد سزا دے ۔عالمی سطح پر ہونے والے جرائم کا ذکرکرتے ہوئے پروفیسرانجینئرسلیم نے کہا کہ یوکرین اورفلسطین میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم بڑ ے پیمانے پرہورہے ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں عورتوں، بچوں اوربوڑھوں کوقتل کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سماج میں پھیلے جرائم کے خلاف لوگوں کے ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ امن و قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرے جو تمام طرح کے جرائم سے پاک ہو۔
ایک اہم موضوع پر کانفرنس منعقد کرنے کے لیے جماعت اسلامی ہند کی ستائش کرتے ہوئے سروا دھرم سنسد کےسوامی سشیل گوسوامی مہاراج نے مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ سماج میں جو بھی جرائم ہوتے ہیں اس سے پورا سماج متاثر ہو تا ہے ۔ہم نے حکومت سے گذارش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں مذہبی بحثوں کے علاوہ اس مسئلے پر بھی بحث کرائی جائے۔
سماج کی برائیوں پر سبھی مذہبی رہنماؤں کو توجہ دینی ہوگی: سشیل گوسوامی مہاراج
سشیل گوسوامی مہاراج نے کہا کہ سماج میں جو برائیاں ہیں اس پرسبھی دھرم گروؤں کو خاص توجہ دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا جرم ایک ایسی برائی ہے جو تمام مذہب کو نقصان پہنچاتی ہے ۔انہوں نے کہا جرم اورتشدد کے لیے کسی ایک مذہب کو مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے افراد بستے ہیں ، ایسے میں تمام مذہبی لوگوں کو ایک پلیٹ فارم اکٹھا ہوکراس مسئلے کے حل کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔دھرم کے نام پر ہونے والے تشدد کو اپنی تنقید کا نشانے بناتے ہوئے سشیل گوسوامی مہاراج نے کہا کہ دھرم کے نام پر ہونے والے تشدد کو کسی بھی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مثبت سوچ رکھنے والے افراد کو ایک ساتھ آنا ہوگا اور سماج کو جرائم سے پاک کرنا ہوگا۔
جرائم پوری دنیا کے لئے اہم مسئلہ: سوامی سروا لوکا نند
سوامی سروا لوکا نند نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم مسئلے پر جماعت اسلامی نے کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف بھارت میں جرائم بڑھ رہے ہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس کی وجہ جاننے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال سے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان میں انسانیت ختم ہوگئی ہے، جس انسان میں دھرم نہیں وہ انسان جانورکی مانند ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے اندر انسانی قدروں کوجگانے کی ضرورت ہے۔ والدین اپنے بچوں کواعلیٰ اخلاقی قدروں کی تعلیم دیں، جب سماج میں اچھے لوگ بڑھیں گے تو جرائم خود بہ خود ختم ہو جائیں گے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح آپ کرنی ہوگی۔ یہ اس بات پرمنحصرہے کہ ہم کس طرح کے انسان بنیں۔اخلاقیات کی تعلیم گھر، اسکول اورکالج سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مثالی شہری بننے کے لیے اچھے اخلاق کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے۔
انسانی اقدارکو فروغ دیئے جانے کی ضرورت: فادر ناربرٹ ہرمین
کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فادر ناربرٹ ہرمین نے کہا کہ انسانی وقارآج داؤ پرلگا ہوا ہے۔ زندگی کی قدریں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ سماج میں عدم مساوات اور بے انصافی بڑھ گئی ہے، اس وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایسےحالات پیدا کرنے میں ایک بڑی ذمہ داری میڈیا پربھی عائد ہوتی ہے۔ تمام طرح کی برائیوں سے اسی وقت نجات حاصل ہوگی، جب انسانی قدروں کو فروغ دیا جائےگا۔ربی ازاکیل اساک مالیکرنے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سماج میں روحانی روشنی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ خدا رحم کرنے والا اوردرگذرکرنے والا ہے۔ دھرم میں مساوات اوررحم دلی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اس معاملے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔سنگین جرائم کے معاملے سالوں سال عدالتوں میں چلتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل مجرم کو سزا نہیں مل پاتی۔ اگرعدالتیں اپنے کاموں میں تیزی لائیں توکرمنل معاملوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنے کی ضرورت پرزور
جرائم کے بڑھتے رجحان پرمرزبان ناریمن زائیوالا نے جرائم کے نفسیاتی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جرم ہر زمانے میں ہوتا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس کی روک تھام کیسے کی جائے۔ انہوں نے کہا سب سے پہلے منفی سوچ کومثبت سوچ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انسان ایک عمرپرپہنچنے کے بعد جرائم میں ملوث ہوتا ہے۔ اگرابتدائی عمر سے ہی جرائم کے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو تربیت دی جائے تواس پربڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کی شروعات گھرسے کی جا سکتی ہے۔ اگرنئی نسل کوجرائم سے بچانا ہے تواس کے لیے والدین اوراسکول کوتیارکرنا ہوگا۔
سماج کے اخلاقی زوال پذیرہونا باعث تشویش
سسٹربی کے حسین نے کہا کہ پورا سماج اخلاقی زوال کی طرف جا رہا ہے۔ سماج میں جرائم کے بڑھنے کی کئی وجہیں ہیں۔ ہمیں ان وجوہات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اپنے آپ کوسمجھ نہ پانا اس کی بڑی وجہ ہے۔انسان یہ بھول گیا ہے کہ وہ کون ہے اوراس کا فرض منصبی کیا ہے۔ انفرادیت پسندی اورخودغرضی جرائم کوبڑھاوا دینے میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ مذہب کے نام پررائج ہر تنگ نظری کوچھووڑنا ہوگا۔ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اپنے آپ کوخدا اورسماج سے جوڑیں۔ اگرسماج میں محبت اوراخوت کوپھلائیں گے تویقیناً تبدیلی آئے گی۔ کانفرنس کے آخرمیں نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسرانجینئرسلیم نے اعلان کیا کہ اس آن لائن کانفرنس کے بعد جماعت اسلامی اسی موضوع پرجلد ہی بڑے پیمانے پرآف لائن کانفرنس کا انعقاد کرے گی۔ آن لائن کانفرنس کی نظامت وارث حسین نے کی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
