Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

مرکزی تعلیمی بورڈ، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری سید تنویراحمد کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم خصوصاً اُن طلبہ کے لئے نقصان دہ ہوگی، جوکمزورطبقات سے تعلق رکھتے ہیں اورسرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔

نائب امیرجماعت اسلامی ملک معتصم خان نے واقعہ کی غیرجانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ پولیس افسران کے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

اجتماع کی کامیاب تکمیل پر شہر حیدراباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی ، نائب امرائے جماعت ملک معتصم خان ، پروفیسر سلیم انجینیر اور قیم جماعت ٹی عارف علی نے اجلاس میں منظور شدہ قراردادوں کی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کی۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس ملک میں صالح اور باصلاحیت نسلوں کی تیاری میں اسلامی طلبہ تنظیموں ایس آئی او اور جی کا غیر معمولی کردار رہا ہے۔ ایک تابناک مستقبل کی تعمیر کے لیے نوجوانوں، طلبہ تنظیموں کو مستحکم اور مضبوط کرنے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی وفد نے نائب صدر ملک معتصم خان کی قیادت میں 4 نومبر 2024 کو وقف (ترمیمی) بل 2024 پر جے پی سی سے ملاقات کی۔ وفد نے معزز کمیٹی کے اراکین کو تفصیلی نمائندگی دی اور مجوزہ بل کے ساتھ اہم مسائل پر روشنی ڈالی۔

امیر جماعت نے کہا کہ ’’ جنوبی لبنان کے خلاف اسرائیل کے ان وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں تقریبا 500 افراد شہید ہوئے ہیں جن میں پچاس کے قریب بچے بھی شامل ہیں اور دیڑھ ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

ان کتابوں کا مقصد ان طلبہ کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کرنا ہے جو سرکاری یا نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور دینی تعلیمات سے محروم ہیں۔

پروفیسر سلیم نے نفرت انگیز جرائم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ملک میں نفرت انگیز جرائم میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ کچھ طاقتیں مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بناتی ہیں تاکہ وہ مشتعل ہوں اور ملک میں بدامنی پھیلے۔

نئی دہلی: ’’ شعبہ خواتین، جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ستمبر 2024 میں ایک ماہ کی طویل ملک گیر مہم شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس مہم کا تھیم ہے’’اخلاقی محاسن آزادی کے ضامن‘‘۔ اس مہم کا مقصد لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اورانہیں بتانا کہ حقیقی آزادی کیا ہے اور اسے اخلاقیات سے …

امیر جماعت نے کہا کہ ’’ احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف شیخ حسینہ کا رد عمل معاندانہ، پُرتشدد اورجابرانہ تھا جس نے صورت حال کو مزید بگاڑ دیا۔ وہاں کی موجودہ صورتحال پر جماعت اسلامی ہند تشویش کا اظہار کرتی ہے۔