Bharat Express DD Free Dish

Jamaat-e-Islami Hind

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے بہار اسمبلی انتخابات اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پراظہار خیال کیا ۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن  آف سول رائٹس (ای پی سی آر) کے سکریٹری ندیم خان نے سی اے اے مخالف سیاسی کارکنان کی مسلسل قید پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ۔

جماعت اسلامی ہند نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انصاف، آئینی اقدار اور پُرامن شہری جدوجہد کے اصول پر قائم رہے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک متعصم خان نے سیاسی محرکات پر مبنی ایف آئی آر کو فوراً واپس لینے، ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتار کئے گئے افراد کی فوری رہائی اور پولیس زیادتیوں پر عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں وقف ہیلپ ڈیسک ( بیک اینڈ سپورٹ سسٹم )  کا افتتاح عمل میں آیا۔ہیلپ ڈیسک کے ذریعے اوقاف کے متولیان، آئمہ مساجد اور دینی اداروں کے ذمہ داران ہیلپ ڈیسک سے براہ راست رابطہ کرکے مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں طویل خونریزی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو ایک ’مثبت اور امید افزا قدم ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں اصولی اور فعال کردار ادا کرے۔

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے معروف عالمِ دین مولانا توقیررضا خان کی گرفتاری اوربریلی میں متعدد دیگر افراد کی پولیس حراست کوانتہائی تشویشناک معاملہ قراردیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ ہمارے ملک کوفرقہ وارانہ سیاست اورنفرت پرمبنی طرزِحکمرانی کی طرف دھکیلنے کی خطرناک …

جماعت اسلامی ہند دیگر انصاف پسند تنظیموں واداروں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی قانون کے مکمل خاتمے تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئینی اصولوں اور مسلمانوں کے تحفظات کی روشنی میں اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔

پروگرام میں  شامل ہونے والی اہم شخصیات میں پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے جناب مرزبان زئی والا ، روی داس سماج کے  سنت ویر سنگھ ہتکاری، بدھ مذہب کے یَشی فنت شوک،  یہودی مذہب کے ایزی کیل مالیکر، برہما کماری تنظیم سے وابستہ بہن حسین  اور بہائی مذہب کے نیلا کشی راج کھوا شامل تھے۔

جماعت اسلامی کی ٹیم نے سکھ قائدین، گورنمنٹ نوڈل افسران اور متاثرہ افراد سے ملاقاتیں کیں اور ان کی فوری ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ متاثرہ افراد سے بات چیت میں سیلاب زدگان کو بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت اور طریقہ کار پر گفتگو کی گئی۔

لینڈ سلائیڈ، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے ایک جامع ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں واضح معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP's) طے کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔

’’ جب نسل کشی جاری ہو تو اس وقت غیر جانبدار رہنا، جرم میں شمولیت کے مترادف ہے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سراسر ظلم ہے۔ ہمارے احتجاجات اور سفارت خانوں سے بات چیت کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیوں کی چیخ ہر طاقتور کے کانوں تک پہنچنے۔‘‘