Bharat Express DD Free Dish

فضائی آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے جماعت اسلامی نے جامع طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا

پروفیسرسلیم انجینئرنے سول سوسائٹی، رہائشی گروپس، ماحولیاتی کارکنوں اورنوجوانوں کے پلیٹ فارموں سے بھی اپیل کی کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اورمتعلقہ حکام سے جواب دہی یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کوبھی ماحول دوست طرزِعمل اپنانا چاہئے اورکمیونٹی کے ساتھ مل کرشجرکاری کوفروغ دینا چاہئے۔

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئرنے نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) اور ملک کے کئی بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی فضائی آلودگی کے بحران پرگہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ خطرناک حد تک پھیل چکی فضائی آلودگی عوامی صحت کے لیے ہنگامی بحران کی شکل اختیارکر چکی ہے۔ ’ اے کیوآئی‘ کی بڑھتی ہوئی سطح گاڑیوں اورصنعتی اخراج پرقابوپانے میں حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود تعمیراتی گرد وغبار، فصلوں کی باقیات جلانے اورکچرا جلانے پر قابو پانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔ یہ زہریلا ماحول لاکھوں لوگوں بالخصوص بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہا ہے، ساتھ ہی تعلیم اور نقل و حرکت کو بھی متاثرکررہا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ) کا سال بھرنفاذ عملی نہیں ہے۔ صاف ہوا کے لیے ایک جامع اورطویل مدتی حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تعمیرات پرپابندیاں، ٹریفک پرکنٹرول اوروقتی بندشیں جیسے عارضی اقدامات صرف قلیل مدتی راحت فراہم کریں گے۔ درحقیقت ان کا غیرضروری بوجھ دہاڑی پرکام کرنے والے مزدوروں اورچھوٹے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔ اس وقت ملک کومضبوط سیاسی عزم کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے درمیان مؤثرتعاون اورسائنس پرمبنی مستقل جاری رہنے والا آلودگی کنٹرول نظام درکارہے۔

مرکزی اورریاستی حکومتوں سے یہ بڑا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرنے مزید کہا کہ ہم مرکزی اورریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ماہرین کی رہنمائی میں فوری عمل کریں، اس سلسلے میں ریاست کو واضح اہداف، ٹائم لائنزاوراحتسابی طریقۂ کارمتعین کرنا چاہیے۔ صنعتی، تھرمل پاوراورگاڑیوں سے متعلق ضوابط کا سختی سے نفاذ ہونا چاہیے۔ حکومت کوفصلوں کی باقیات جلانے کے خاتمے کے لیے کسانوں کواعتماد میں لے کرپائیدارحل تلاش کرنا چاہئے۔ اس تعلق سے تعمیراتی مقامات پرسخت ضابطہ بندی، گرد وغبارکودبانے کے مؤثراقدامات اورکھلے عام کچرا جلانے کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ صاف اورسستے پبلک ٹرانسپورٹ کی توسیع، تیزرفتارالیکٹرک بسیں اورکاریں ماحولیاتی آلودگی کوبڑی حد تک کم کرسکتی ہیں۔ غیرموٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کے فروغ اورشفاف مقامی ہوا کے معیارکے ڈیٹا سسٹمزکوبھی یقینی بنایا جانا چاہئے۔

سول سوسائٹی، رہائشی گروپس اورماحولیاتی کارکنوں سے خاص اپیل

پروفیسرسلیم انجینئرنے سول سوسائٹی، رہائشی گروپس، ماحولیاتی کارکنوں اورنوجوانوں کے پلیٹ فارموں سے بھی اپیل کی کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اورمتعلقہ حکام سے جواب دہی یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کوبھی ماحول دوست طرزِعمل اپنانا چاہئے اورکمیونٹی کے ساتھ مل کرشجرکاری کوفروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہوا، پانی اورماحولیات کواللہ کی طرف سے عطا کردہ امانت قراردیتا ہے۔ زمین پراللہ کے نائب ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس امانت کوموجودہ اورآنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں اوراس کا تحفظ کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔