Bharat Express DD Free Dish

Delhi Pollution

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے بجلی گھروں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹروں اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی مسلسل فضائی معیار کو خراب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودہ ذرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔

شدید آلودگی اور انتظامی لاپروائی کے باعث مشرقی دہلی کی مشہور سنجے جھیل ان دنوں مچھلیوں کے قبرستان میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جھیل میں ہزاروں کی تعداد میں مردہ مچھلیاں تیرتی اور کناروں پر جمع نظر آ رہی ہیں،

دہلی–این سی آر میں ہوا کے معیار میں بہتری کے بعد وائرل کوالٹی مینجمنٹ کمیشن نے GRAP-IV کی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ تاہم، آلودگی کو قابو میں رکھنے کے لیے GRAP کے سٹیج 1، 2 اور 3 کے قواعد اب بھی نافذ رہیں گے۔

دہلی-این سی آرمیں ہوا کے معیارمیں بہتری کے بعد، گریپ 4 کی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اس میں تعمیراتی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

صحت کے ماہرین نے بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ فی الحال جب تک موسم میں تبدیلی یا تیز ہوائیں نہیں چلتیں، این سی آر کے لوگوں کو آلودگی سے راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے دہلی میں بڑھتی آلودگی پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی فضاء کی وجہ سے انہیں الرجی ہو جاتی ہے۔ گڈکری کے مطابق، اس زہریلی آلودگی میں تقریباً 40 فیصد حصہ اکیلے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا ہے۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے آلودگی کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ اب آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یوسی) چالان معاف نہیں ہوں گے۔ حکومت اولا-اوبر کے ساتھ مل کرای-بسیں چلانے کا امکان تلاش رہی ہے۔ ساتھ ہی ای-رکشا اورڈی ٹی سی روٹوں کو منظم طریقے سے ہموارکرے گی۔

18 دسمبر سے پہاڑی علاقوں میں سرگرم ہونے والے نئے ویسٹرن ڈسٹربنس کے باعث شمالی بھارت میں شدید سردی اور بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ دہلی میں آلودگی اور کہرے نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دہلی میں آلودگی بڑھنے کے سبب، وزیرکپل مشرا نے 50 فیصد ورک فرام ہوم کے ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے سخت کارروائی کی جائے گی۔

پروفیسرسلیم انجینئرنے سول سوسائٹی، رہائشی گروپس، ماحولیاتی کارکنوں اورنوجوانوں کے پلیٹ فارموں سے بھی اپیل کی کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اورمتعلقہ حکام سے جواب دہی یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کوبھی ماحول دوست طرزِعمل اپنانا چاہئے اورکمیونٹی کے ساتھ مل کرشجرکاری کوفروغ دینا چاہئے۔