Bharat Express DD Free Dish

Delhi Pollution

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے کام کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہندوستان اورسری لنکا کے پہلے ونڈے کا مقام تبدیل کردیا گیا ہے۔ بی سی سی آئی نے جمعرات، 5 نومبر کو ایک ریلیز جاری کرکے اس تبدیلی کی باضابطہ اطلاع دی۔

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، دہلی کے سات مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر اے کیو آئی 400 سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جو ’سنگین‘ زمرے میں آتا ہے۔ پنجابی باغ میں سب سے زیادہ 446 اے کیو آئی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دہلی میں سردیوں کے دوران آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری، BS-6 سے کم معیار والی گاڑیوں کی آمدورفت پر 31 جنوری 2027 تک پابندی لگانے کی تجویز سے این سی آر کے لاکھوں ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

دہلی میں دریائے جمنا کی صفائی سے متعلق بی جے پی حکومت کے دعوؤں پر سوال اٹھنے لگے ہیں، چھٹھ پوجا کے دوران شردھالوؤں کی صحت اور سلامتی سے متعلق فکرمندی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دہلی-این سی آر میں بڑھتی آلودگی کے درمیان اے کیو آئی 244 سے تجاوز کر گیا ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) کا پہلا مرحلہ نافذ کر دیا گیا ہے۔ جانئے GRAP کیا ہے، اس کے چاروں مراحل میں کون کون سی پابندیاں لگتی ہیں اور عام لوگوں پر ان کا کیا اثر پڑتا ہے۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ تیار، بی ایس-6 سے کم معیار والی بیرونی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی، پی یو سی سرٹیفکیٹ کے بغیر ایندھن نہیں ملے گا، تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اے آئی کیمروں سے ہوگی۔

فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے CAQM نے نفاذی نظام کا جائزہ لیا، بغیر ویلڈ پولیوشن انڈر کنٹرول سرٹیفکیٹ (PUCC) والی گاڑیوں کو پٹرول، ڈیزل اور CNG دینے پر پابندی، پیٹرول پمپس پر ANPR نظام نصب کرنے کی تیاری۔

CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے پہلے بھی نافذ کیے جا سکیں گے سخت اقدامات، AQI 450 سے اوپر پہنچنے پر ٹرکوں اور تعمیراتی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں۔

دہلی حکومت نے موسمِ سرما میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان تیار کیا، تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی، پرانی گاڑیوں کے خلاف کارروائی، دفاتر میں 50 فیصد ورک فرام ہوم اور پارکنگ فیس دوگنی کرنے کا فیصلہ۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ جنگلات میں لگنے والی آگ، فوسل فیول سے چلنے والے بجلی گھروں، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ڈیٹا سینٹروں اور زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی مسلسل فضائی معیار کو خراب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ آلودہ ذرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے مختلف پہلوؤں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔