Bharat Express DD Free Dish

Delhi Pollution

18 دسمبر سے پہاڑی علاقوں میں سرگرم ہونے والے نئے ویسٹرن ڈسٹربنس کے باعث شمالی بھارت میں شدید سردی اور بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ دہلی میں آلودگی اور کہرے نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

دہلی میں آلودگی بڑھنے کے سبب، وزیرکپل مشرا نے 50 فیصد ورک فرام ہوم کے ضوابط کو سختی سے نافذ کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے سخت کارروائی کی جائے گی۔

پروفیسرسلیم انجینئرنے سول سوسائٹی، رہائشی گروپس، ماحولیاتی کارکنوں اورنوجوانوں کے پلیٹ فارموں سے بھی اپیل کی کہ وہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اورمتعلقہ حکام سے جواب دہی یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کوبھی ماحول دوست طرزِعمل اپنانا چاہئے اورکمیونٹی کے ساتھ مل کرشجرکاری کوفروغ دینا چاہئے۔

دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور زہریلے اسموگ کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔ حکومت نے سخت موقف اختیارکیا ہے۔ وزیر ماحولیات نے اعلان کیا کہ آلودگی سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کو جمعرات 18 دسمبر سے پٹرول فراہم نہیں کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے اور ایسے احکامات صادر کیے جائیں گے، جن پر عمل ممکن ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شہری طبقہ اپنی سہولتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، لیکن آلودگی کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور مزدور طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دہلی اور شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے۔ دارالحکومت میں کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری تک گر گیا، جبکہ اے کیو آئی 372 ریکارڈ ہوا جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔ اگلے 4 سے 5 دن تک سردی اور آلودگی سے کسی راحت کی امید نہیں ہے۔

شمالی ہند میں سردی کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت میں شدید گراوٹ کے ساتھ کئی ریاستوں میں سرد ہواؤں اور گھنے کہرے کی وارننگ دی گئی ہے۔ دہلی میں سردی اور آلودگی کی دوہری مار جاری ہے، جبکہ کشمیر میں برفباری کا امکان برقرار ہے۔

محکمہ موسمیات کے پیر (24 نومبر) کو دہلی کے لیے دھند کے الرٹ نے بھی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ پیر کو درمیانی دھند پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب 25 اور 10 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس نے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے تمام قسم کے جسمانی کھیلوں کے مقابلوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

لیکن نومبرمیں آلودگی میں اضافے کے امکان کے پیش نظر بورڈ نے مقام کو کولکتہ منتقل کر دیا۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 10 سے 14 اکتوبر تک دہلی میں ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔