Bharat Express DD Free Dish

Delhi Pollution

دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی اور زہریلے اسموگ کا مسئلہ بدستور برقرار ہے۔ حکومت نے سخت موقف اختیارکیا ہے۔ وزیر ماحولیات نے اعلان کیا کہ آلودگی سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کو جمعرات 18 دسمبر سے پٹرول فراہم نہیں کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہے اور ایسے احکامات صادر کیے جائیں گے، جن پر عمل ممکن ہو۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ شہری طبقہ اپنی سہولتوں سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا، لیکن آلودگی کا سب سے بڑا بوجھ غریب اور مزدور طبقے کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

دہلی اور شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں سردی کی شدید لہر جاری ہے۔ دارالحکومت میں کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری تک گر گیا، جبکہ اے کیو آئی 372 ریکارڈ ہوا جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔ اگلے 4 سے 5 دن تک سردی اور آلودگی سے کسی راحت کی امید نہیں ہے۔

شمالی ہند میں سردی کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت میں شدید گراوٹ کے ساتھ کئی ریاستوں میں سرد ہواؤں اور گھنے کہرے کی وارننگ دی گئی ہے۔ دہلی میں سردی اور آلودگی کی دوہری مار جاری ہے، جبکہ کشمیر میں برفباری کا امکان برقرار ہے۔

محکمہ موسمیات کے پیر (24 نومبر) کو دہلی کے لیے دھند کے الرٹ نے بھی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ پیر کو درمیانی دھند پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب 25 اور 10 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

دہلی حکومت کے محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس نے اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں ہونے والے تمام قسم کے جسمانی کھیلوں کے مقابلوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

لیکن نومبرمیں آلودگی میں اضافے کے امکان کے پیش نظر بورڈ نے مقام کو کولکتہ منتقل کر دیا۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 10 سے 14 اکتوبر تک دہلی میں ٹیسٹ کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔

قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے دہلی-این سی آر میں فضائی معیار مسلسل خراب ہے۔ پیر کے روز دہلی کی اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 360 ریکارڈ کیا گیا۔ چھ مقامات پر یہ 400 سے زیادہ پایا گیا، جو ’سنگین‘ کیٹگیری میں آتا ہے۔

دیوالی کے بعد سےدہلی میں سانس لینا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ فضا میں گھلا زہر ہر دن نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ صبح سے شام تک دارالحکومت اسموگ کی چادر میں لپٹا ہوا ہے اور اے کیو آئی شدید ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں سی پی سی بی کے رکن ڈاکٹر انل گپتا سے جانئے کہ آلودگی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے۔

دہلی حکومت نے فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں پہلی بار کلاؤڈ سیڈنگ (مصنوعی بارش) کا تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ بُراڑی، نارتھ کرول باغ، بھوج پور، میور وہار اور سڑک پور سمیت کئی علاقوں کے اوپر کیا گیا۔