نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے امریکہ اورایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اور ضروری پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تنازع خطرناک حد تک شدت اختیارکرچکا تھا اور اس کے باعث خطے سمیت پوری دنیا میں گہری تشویش پائی جا رہی تھی۔
میڈیا کوجاری اپنے ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ’’ہم اس عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ضروری وقفہ ہے جس نے معصوم جانوں کے مزید نقصان کو روکا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران کو ٹال دیا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی جانیں گئی ہیں اور اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، یہ جنگ بندی مزید تباہی کو روکنے اور بامعنی مذاکرات کی طرف بڑھنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عارضی جنگ بندی کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ پائیدار اور منصفانہ امن کے لیے جارحیت کا مکمل خاتمہ، ممالک کی خودمختاری کا احترام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی طے کرنا ضروری ہے۔
حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پرپیدا ہوئی اطمینان کی فضا: سعادت اللہ حسینی
جماعت اسلامی ہند کے امیرنے موجودہ صورت حال پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ جنگ بندی کے نتیجے میں عالمی سطح پراطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے، بالخصوص آبنائے ہرمزکے دوبارہ کھلنے اورکشیدگی میں کمی کے باعث، عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہوئی ہے اور بھارت سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات میں کمی آئی ہے۔ لہٰذا امریکہ اور اسرائیل، جنہوں نے اس غیرمنصفانہ اوربلا وجہ جنگ کا آغاز کیا تھا پر لازم ہے کہ وہ سنجیدہ سفارتی مذاکرات کی جانب تیزی سے پیش رفت کرے۔ اس سلسلے میں فریقین کی جانب سے غفلت نہیں برتی جانی چاہئے کیونکہ فی الحال یہ جنگ بندی عارضی ہے اور صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اس موقع پر امیر جماعت نے اسرائیل کی جانب سے اہم شخصیات کو چن چن کر نشانہ بنانے کی پالیسی پر بھی شدید تنقید کی اور اسے وحشیانہ جنگی جرم قرار دیا۔ اس موقع پر آپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر جنگ بندی کچھ مخصوص علاقوں تک محدود رکھی جائےاور دیگر علاقوں میں یہ جاری رہے تو اس سے عدم استحکام اور انسانی بحران کو مزید بڑھاوا ملے گا‘‘۔
پائیدارحل صرف بات چیت، باہمی احترام اوربین الاقوامی قوانین کے ذریعہ ممکن: جماعت اسلامی
امیرجماعت اسلامی نے باہمی گفت وشنید سے مسئلے کے حل پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’حالیہ تنازعہ ایک بارپھراس حقیقت کواجاگرکرتا ہے کہ پیچیدہ سیاسی مسائل کے حل میں فوجی طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پرفوجی کارروائیوں کے باوجود صورتحال بالآخرمذاکرات کی طرف ہی لوٹ آئی، جواس بات کی غمازہے کہ پائیدارحل صرف بات چیت، باہمی احترام اوربین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ طاقت کے ذریعہ نتائج حاصل کرنے کی کوششیں نہ صرف عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں بلکہ انسانی مصائب اور علاقائی تقسیم کو بھی مزید گہرا کرتی ہیں۔
جماعت اسلامی ہند نے کی یہ بڑی اپیل
آخرمیں امیرجماعت اسلامی ہند نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کی روح اوراس کے تقاضوں کا مکمل احترام کریں، سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں اورایک جامع اور دیرپا حل کی جانب پیش رفت کریں۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے خلاف ورزیوں پرجوابدہی کویقینی بنائے۔ ساتھ ہی حکومتِ ہند سے اپیل کی کہ وہ امن کے قیام کے لیے فعال، متوازن اوراصولی کردارادا کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



