Bharat Express DD Free Dish

Indian Muslims

قدیمی مسجد کے خلاف حکومت کی مجوزہ کارروائی پر جماعتِ اسلامی ہند کا سخت اعتراض، نائب امیر ملک معتصم خان نے کرشی بھون کے قریب واقع قدیمی مسجد کو ہٹانے کی مجوزہ حکومتی تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مسجد کو سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے متصادم قرار دینا نہ صرف قانونی اور تاریخی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، بلکہ سیکولرازم کے بنیادی اصولوں کی بھی غلط تشریح ہے۔

’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سنجے کرول، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ سُجیت کمار، دہلی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل کیرتی اپل، اتراکھنڈ یکساں سول کوڈ کمیٹی کے رکن منو گوڑ سمیت کئی ممتاز قانون داں شریک ہوئے۔

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی رپورٹ آنے تک معاملہ زیر التوا رہے گا

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور انڈیا اتحاد کے مستقبل پر بحث تیز

دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے بعد سیاسی لیڈران کی جانب سے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، اپوزیشن نے بی جے پی پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں یکساں شہری ضابطہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد جمعیت علماء ہند کے صدر نے اعتراض درج کرایا

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع  تاریخی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ چاپلوسی اور سیاسی غلامی کا ایک بدترین مظاہرہ تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سہارنپور کے افسران نے دنیا کے سامنے اپنی متعصبانہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرکے آخر کیا حاصل کیا ؟ یہ پورا واقعہ ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے اور اقلیتی حقوق کے تعلق سے ملک کی قیادت کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

 سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے سخت سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا۔ کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیا گیا، جبکہ عمران مسعود، مایاوتی اور اسدالدین اویسی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

آر ایس ایس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، اسے سننا ضروری ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے ساتھ کام کرنے والے مسلمانوں کو بھی سننا اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی تنظیم کی مکمل تصویر صرف اس کے ناقدین سے بات کرکے نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے تجربات بھی اس تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا تجربہ ہی مکمل سچائی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ بھی سچائی کا ایک حصہ ہے۔

کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے بتایا کہ مجوزہ احتجاج کا مقصد مسلمانوں سے متعلق مختلف مسائل اور ان کے حقوق سے جڑے معاملات کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے حکومت اور انتظامیہ تک عوام کی آواز پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔