Bharat Express DD Free Dish

Indian Muslims

دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے بعد سیاسی لیڈران کی جانب سے آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، اپوزیشن نے بی جے پی پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں یکساں شہری ضابطہ نافذ کرنے کے اعلان کے بعد جمعیت علماء ہند کے صدر نے اعتراض درج کرایا

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع  تاریخی مسجد کی مسماری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ چاپلوسی اور سیاسی غلامی کا ایک بدترین مظاہرہ تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ سہارنپور کے افسران نے دنیا کے سامنے اپنی متعصبانہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرکے آخر کیا حاصل کیا ؟ یہ پورا واقعہ ملک کی جمہوریت پر ایک بدنما داغ ہے اور اقلیتی حقوق کے تعلق سے ملک کی قیادت کے رویے کی نشاندہی کرتا ہے۔

 سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے سخت سکیورٹی کے درمیان منہدم کر دیا۔ کیرانہ کی سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو ہاؤس اریسٹ کیا گیا، جبکہ عمران مسعود، مایاوتی اور اسدالدین اویسی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

آر ایس ایس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، اسے سننا ضروری ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے ساتھ کام کرنے والے مسلمانوں کو بھی سننا اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی تنظیم کی مکمل تصویر صرف اس کے ناقدین سے بات کرکے نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے تجربات بھی اس تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا تجربہ ہی مکمل سچائی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ بھی سچائی کا ایک حصہ ہے۔

کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے بتایا کہ مجوزہ احتجاج کا مقصد مسلمانوں سے متعلق مختلف مسائل اور ان کے حقوق سے جڑے معاملات کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے حکومت اور انتظامیہ تک عوام کی آواز پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایودھیا کے دھنی پور میں مجوزہ مسجد منصوبے کو فنڈز کی کمی کے باعث محدود کر دیا گیا ہے۔ اب فی الحال صرف مسجد کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ اسپتال، میوزیم، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن جیسے منصوبوں کو مستقبل کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔

پریس کانفرنس میں دہلی میں 30 جون سے 29 جولائی 2026 تک ہونے والے ایس آئی آر سے متعلق منظم طورپر بیدار رہنے کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی مستقل بیداری کے لئے تیار رہنے کو کہا گیا، تاکہ غفلت بے جاسے کسی طرح بھی سازشاً کسی کو شہریت سے محروم نہ ہونا پڑے۔

جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی مسجد کے انہدام کے خلاف مسلم تنظیموں نے عدالتی تحقیقات، مسجد کی ازسرِ نو تعمیر اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔