Bharat Express DD Free Dish

Indian Muslims

ایودھیا کے دھنی پور میں مجوزہ مسجد منصوبے کو فنڈز کی کمی کے باعث محدود کر دیا گیا ہے۔ اب فی الحال صرف مسجد کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ اسپتال، میوزیم، ریسرچ سینٹر اور کمیونٹی کچن جیسے منصوبوں کو مستقبل کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔

پریس کانفرنس میں دہلی میں 30 جون سے 29 جولائی 2026 تک ہونے والے ایس آئی آر سے متعلق منظم طورپر بیدار رہنے کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی مستقل بیداری کے لئے تیار رہنے کو کہا گیا، تاکہ غفلت بے جاسے کسی طرح بھی سازشاً کسی کو شہریت سے محروم نہ ہونا پڑے۔

جے پور کے مالویہ نگر میں واقع نورانی مسجد کے انہدام کے خلاف مسلم تنظیموں نے عدالتی تحقیقات، مسجد کی ازسرِ نو تعمیر اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔

بھوپال میں واقع مولانا برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز نے ایک بار پھر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

امیر، جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے عید الاضحی کے موقع پر تمام عالم اسلام اور اہل وطن کو عیدالاضحٰی کی پر خلوص مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں انہوں  نے کہا کہ عید الاضحی، توحید کی عید ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سنت ابراہیمی کو بھی بہت ہی موئثر انداز میں پیش کیا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران ٹرین سفر کے وقت مسلم مسافروں کے ساتھ مارپیٹ، توہین، مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد اور مشتبہ حالات میں اموات جیسے کئی واقعات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں، جو انتہائی سنگین اور ناقابل قبول صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی مدنی نے اس موقع سے دوسری اقوام کے جذبات کا خیال رکھنے کی اپیل کی۔ مثلاً قربانی کا جانور لانے لے جانے میں احتیاط رکھنا، سڑکوں یا کھلے مقامات پر جانور ذبح کرنے سے پرہیز کرنا، راستوں پر گندگی پھینکنے سے اجتناب کرنا وغیرہ اور اسی طرح ممنوعہ جانور کی قربانی سے مکمل پرہیز کرنا وغیرہ شامل ہے۔

موجودہ حالات کے پیش نظر مولانا ارشد مدنی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ مسلمان اپنے طورپرمحتاط رویہ اپناتے ہوئے سوشل میڈیا وغیرہ پرقربانی کے جانوروں کی تصویریں وغیرہ شیئر کرنے سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ قربانی کرتے وقت حکومتی ہدایات کی پاسداری کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ممنوعہ جانوروں کی قربانی نہ کریں اورچونکہ مذہب میں کالے جانور کی قربانی جائز ہے اس لیے کسی بھی فتنے اورتنازع سے بچنے کے لیے ا سی کی قربانی پراکتفا کیا جانا بہترہے۔

اصل مسئلہ صرف بی جے پی کا اقتدارمیں آنا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج کو خود انحصاری پرمبنی سیاسی شعور نہیں دیا گیا۔ انہیں کوئی مضبوط بیک اَپ پلان نہیں دیا گیا، کوئی طویل مدتی حکمتِ عملی نہیں سکھائی گئی، کوئی متبادل قیادت تیار نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ایسا مضبوط اجتماعی ڈھانچہ بنایا گیا، لہذا جو بدلتے سیاسی حالات میں قوم کا سہارا بن برسوں تک”سیکولر سیاست“ کے نام پر مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک بنا کر استعمال کیا جاتا رہا۔