Bharat Express DD Free Dish

An Open Letter to Mamdani: ’نظریہ نہیں، پہلے مکالمہ‘ میئر ممدانی کے نام ایک ہندوستانی مسلمان کا کھلا خط

آر ایس ایس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، اسے سننا ضروری ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے ساتھ کام کرنے والے مسلمانوں کو بھی سننا اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی تنظیم کی مکمل تصویر صرف اس کے ناقدین سے بات کرکے نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے تجربات بھی اس تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا تجربہ ہی مکمل سچائی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ بھی سچائی کا ایک حصہ ہے۔

مضمون نگار: پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر

ممدانی نے آر ایس ایس پر سوال اٹھائے

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے 29 اگست کو منعقدہ یونیورسل وَن نِس سیلیبریشن پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خطاب کی مخالفت کی۔ ممدانی کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کی سوچ میں کچھ لوگوں کو باہر رکھنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے اسے اس کثرت پسند اور سیکولر ہندوستان کی سوچ سے مختلف قرار دیا، جسے وہ بچپن سے مانتے آئے ہیں۔ ممدانی کی بات اپنی جگہ، لیکن میں اس موضوع کو ایک مختلف زاویے سے سامنے رکھنا چاہتا ہوں—ایک ہندوستانی مسلمان کی حیثیت سے، مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر کی حیثیت سے اور آر ایس ایس و مسلم معاشرے کے درمیان طویل عرصے سے جاری مکالمے میں شامل ایک شخص کی حیثیت سے۔ میں ممدانی پر حملہ نہیں کر رہا اور نہ ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ آر ایس ایس پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کسی تنظیم کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس تنظیم کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے تجربات بھی سنے جانے چاہئیں۔ کسی بھی نظریے یا تنظیم کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے مخالفین کی بات سننا کافی نہیں ہو سکتا۔

مسلم راشٹریہ منچ کی کہانی دو دہائیوں پرانی ہے

مسلم راشٹریہ منچ یعنی ایم آر ایم کا آغاز دسمبر 2002 میں مسلم دانشوروں، سماجی نمائندوں اور آر ایس ایس کے سینئر رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے ہوا تھا۔ اس کا مقصد بہت سیدھا تھا—مسلمان اور آر ایس ایس ایک دوسرے کے بارے میں دوسروں سے سننے کے بجائے براہِ راست آپس میں بات کریں، غلط فہمیوں کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے بعد دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران مسلم اساتذہ، مذہبی علما، خواتین، نوجوان اور سماجی کارکن اس مکالمے سے جڑتے رہے اور اسے آگے بڑھاتے رہے۔ آر ایس ایس کے سینئر رہنما اندریش کمار اس پورے عمل میں مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست اور رہنما کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ کسی ایک دن یا ایک پروگرام کی کہانی نہیں ہے۔ یہ برسوں سے جاری بات چیت اور سماجی رابطے کا ایک عمل ہے۔

یہاں مسلمان اپنی شناخت کے ساتھ آتے ہیں

میرے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ مسلم راشٹریہ منچ سے وابستہ مسلمان اپنی شناخت چھوڑ کر نہیں آتے۔ وہ اپنے مذہب، اپنے عقیدے اور اپنے نظریات کے ساتھ اس مکالمے میں حصہ لیتے ہیں۔ میرے اتنے برسوں کے تجربے میں مجھ سے کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ میں اسلام چھوڑ دوں یا اپنی مذہبی شناخت کو کم کروں۔ اس کے برعکس، بات چیت کی بنیاد یہی رہی ہے کہ مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو سمجھیں اور اختلاف کے باوجود ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ اب اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ’ایک قوم، ایک وطن—ہندوستان‘ کے نام سے ایک اور مکالماتی پروگرام کی تیاری ہو رہی ہے، جس میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد اور مسلم معاشرے کے لوگ قومی یکجہتی اور ہماری مشترکہ وراثت پر گفتگو کریں گے۔

صرف تقریریں نہیں، زمین پر بھی کام ہوا ہے

آر ایس ایس اور مسلم معاشرے کے درمیان یہ رابطہ صرف اسٹیجوں پر تقریریں کرنے تک محدود نہیں رہا۔ ماحولیات سے متعلق ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ جیسی مہمات، آسام میں سیلاب کے دوران امدادی کام، وقف اصلاحات اور یکساں سول کوڈ جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ ان سرگرمیوں سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمانوں اور آر ایس ایس کے درمیان بات چیت کسی غیر ملکی پروگرام یا اچانک پیدا ہونے والی ضرورت کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔ اس میں لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کام کیا ہے، اپنی بات رکھی ہے اور کئی معاملات پر اختلاف بھی کیا ہے۔

آر ایس ایس پر تنقید بھی سنی جانی چاہیے

یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ آر ایس ایس کی تمام تنقیدوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ آر ایس ایس کو لے کر بہت سے لوگوں کے سنجیدہ سوالات ہیں۔ اس کی پرانی تحریروں، ملک کے بعض متنازع اور تکلیف دہ واقعات اور آج کی سیاست میں اس کے کردار کو لے کر بھی بحث ہوتی ہے۔ ان سوالات کو سنا جانا چاہیے۔ جمہوریت میں کسی بھی تنظیم سے سوال پوچھنا غلط نہیں ہے۔ تنقید جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ براہِ راست کام کرنے والے لوگوں کے تجربات بھی سنے جائیں۔ صرف تنقید سن کر فیصلہ کرنا اتنا ہی ادھورا ہو سکتا ہے، جتنا صرف تعریف سن کر فیصلہ کرنا۔

اتحاد کا مطلب سب کو ایک جیسا بنانا نہیں

میرے تجربے میں آر ایس ایس سے وابستہ مکالمے میں قومی یکجہتی کی بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر ہندوستانی کو ایک ہی مذہب ماننا چاہیے یا ایک ہی طریقے سے عبادت کرنی چاہیے۔ بات مشترکہ ملک، مشترکہ وراثت اور ایک دوسرے کے تئیں ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں لوگ مختلف مذاہب کو مانتے ہیں، مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف روایات پر عمل کرتے ہیں۔ اس لیے اتحاد کا مطلب ایک جیسا ہونا نہیں ہے۔ مختلف ہوتے ہوئے بھی ساتھ رہنا ہی ہندوستان کی بڑی طاقت ہے۔ ہندوستان کی شناخت اس کے تنوع میں ہے۔ اگر مختلف عقائد اور نظریات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں، تو یہی جمہوریت اور ہندوستانی معاشرے کی حقیقی طاقت ہے۔

نیویارک میں بھاگوت کا بیان بھی سنا جانا چاہیے

اسی تناظر میں نیویارک میں موہن بھاگوت کی کہی ہوئی باتوں کو بھی غور سے دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں نہیں رہنا چاہیے، اسے ہندو نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے ہر انسان کی عزت، مختلف روحانی راستوں اور تنوع کے تحفظ کی بات کی۔ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں سے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس ملک میں وہ رہتے ہیں، اس کے تئیں ان کی شہری ذمہ داری اور وفاداری سب سے پہلے ہونی چاہیے، جبکہ ہندوستان ان کی جنم بھومی ہے۔ ان باتوں سے آر ایس ایس سے متعلق ہر سوال کا جواب نہیں ملتا، لیکن انہیں بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی نظریے یا تنظیم کو سمجھنے کے لیے اس کے رہنماؤں کے بیانات، اس کے کام اور اس سے وابستہ لوگوں کے تجربات—تینوں کو ساتھ رکھ کر غور کرنا چاہیے۔

مسلمانوں کی آواز بھی سنی جائے

میرا اصرار یہ نہیں ہے کہ لوگ آر ایس ایس کی جانچ پڑتال بند کر دیں۔ میرا اصرار صرف اتنا ہے کہ جانچ اور بحث میں ان مسلمانوں کی آواز بھی شامل ہو، جنہوں نے آر ایس ایس کے ساتھ براہِ راست کام کیا ہے۔ آخر یہ جاننے کا ایک اہم طریقہ کیا ہوگا کہ آر ایس ایس مسلمانوں کے ساتھ برتاؤ اور تعلقات میں کس طرح مکالمہ کرتا ہے؟ ان لوگوں سے پوچھنا بھی ضروری ہوگا جنہوں نے یہ تجربہ خود کیا ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا، ان کی بات سننا اور ان کے تجربے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ممکن ہے کچھ لوگ میری بات کو اس لیے مسترد کر دیں کیونکہ میں مسلم راشٹریہ منچ سے وابستہ ہوں۔ لیکن میں اسے کمزوری نہیں سمجھتا۔ جس عمل کی میں بات کر رہا ہوں، اس میں میری براہِ راست شمولیت ہی میرے تجربے کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ہر ہندوستانی مسلمان کی ایک جیسی رائے نہیں ہے

ہندوستانی مسلمانوں کو کسی ایک سیاسی گروپ کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہے۔ ملک کے مسلمانوں کی سوچ، سیاست اور سماجی نقطۂ نظر مختلف ہو سکتے ہیں۔ مسلم راشٹریہ منچ بھی پورے ہندوستانی مسلم معاشرے کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ لیکن مسلم راشٹریہ منچ سے وابستہ مسلمانوں کا ایک تجربہ ضرور ہے—انہوں نے آر ایس ایس کے ساتھ بیٹھ کر بات کی ہے، سماجی کام کیے ہیں اور اختلاف کے باوجود مکالمہ جاری رکھا ہے۔ کسی مسلمان کا آر ایس ایس کے ساتھ مثبت تجربہ ہونا کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ بھی ہندوستان کے تنوع کا ایک حصہ ہے۔

میئر ممدانی، ہندوستان آئیے اور خود دیکھیے

میئر ممدانی، میں آپ سے احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ آپ ہندوستان آئیں اور اس مکالمے کو خود دیکھیں۔ ان مسلم اساتذہ، مذہبی علماء، خواتین، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں سے ملیں جو اس عمل میں شامل ہیں۔ ان سے مشکل سوالات پوچھیں۔ اختلاف کریں۔ ان کے تجربات سنیں۔ پھر اپنی رائے کو اس براہِ راست تجربے کے سامنے پرکھیں۔ اس کے لیے آپ کو اپنی رائے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی سے بات کرنا اس کی حمایت کرنا نہیں ہوتا۔ بات چیت کا مطلب ہے—پہلے سمجھنا اور پھر فیصلہ کرنا۔ ایک جمہوری معاشرے میں مکالمے کی یہی اہمیت ہے۔ ہم کسی سے اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کرنا ہی بند کر دیں۔

آپ کی سوچ اور ہماری سوچ میں بات چیت کی جگہ ہو سکتی ہے

آپ ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر شخص کو برابر جگہ ملے۔ بھاگوت نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کو باہر نہیں کر سکتا۔ ان دونوں باتوں کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھنا ضروری نہیں ہے۔ انہیں ساتھ رکھ کر شہریت، برابری اور ساتھ رہنے جیسے بڑے سوالات پر گفتگو شروع کی جا سکتی ہے۔ ممکن ہے بات چیت کے دوران اختلافات سامنے آئیں۔ ممکن ہے کئی سوالات کے جواب فوراً نہ ملیں۔ لیکن بات چیت بند کر دینے سے کوئی حل نہیں نکلتا۔ ہندوستان کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہاں اختلافات کے باوجود ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔

صرف انصاف نہیں، احترام اور ذمہ داری بھی ضروری

مستقل امن اور سماجی ہم آہنگی صرف تقریروں سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے انصاف چاہیے، ایک دوسرے کا احترام چاہیے اور اپنے ملک و معاشرے کے تئیں ذمہ داری چاہیے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ کسی بات پر اختلاف کے باوجود سامنے والے سے بات کیسے کی جائے۔ بقائے باہمی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ایک جیسا سوچیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ بھی ساتھ رہ سکیں۔ یہی جمہوریت کا اصل امتحان ہے—کیا ہم اپنے سے مختلف نظریہ رکھنے والے شخص کو بھی سن سکتے ہیں؟

فیصلہ کرنے سے پہلے ہماری بات بھی سنیے

آر ایس ایس کے بارے میں جو کہا جاتا ہے، اسے سننا ضروری ہے۔ لیکن آر ایس ایس کے ساتھ کام کرنے والے مسلمانوں کو بھی سننا اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی تنظیم کی مکمل تصویر صرف اس کے ناقدین سے بات کرکے نہیں مل سکتی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والوں کے تجربات بھی اس تصویر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہمارا تجربہ ہی مکمل سچائی ہے۔ لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ بھی سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے میئر ممدانی سے میری مؤدبانہ درخواست ہے—فیصلہ کرنے سے پہلے مکالمہ کیجیے۔ سوال پوچھئے۔ تنقید کیجیے۔ اختلاف رکھیے۔ لیکن ان مسلمانوں کی آواز بھی سنیے، جنہوں نے برسوں تک آر ایس ایس کے ساتھ بیٹھ کر کام کیا ہے۔ کیونکہ نظریے کو سمجھنے کا بہترین راستہ ہمیشہ ٹکراؤ نہیں ہوتا—کئی بار مکالمہ ہوتا ہے۔

*(مضمون نگار قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ کمیشن کے چیئرمین و مسلم راشٹریہ منچ کے قومی کنوینر ہیں)

*مضمون میں بیان کیے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read