Bharat Express DD Free Dish

Anti Naxal Operation

ذرائع کے مطابق 19 مئی کی اس میٹنگ میں صرف چھتیس گڑھ ہی نہیں بلکہ دیگر اہم ریاستوں کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے، سرحدی علاقوں کی نگرانی بڑھانے اور نکسلیوں کے فرار کے راستوں کو بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں نکسل واد پر جاری بحث کے دوران سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کی حکومت ہے اور جو بھی ہتھیار اٹھائے گا، اس کا حساب ضرور ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی کے باعث نکسل واد سے متاثرہ علاقوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔

چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع بیجاپور میں نکسلیوں نے ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے کئی آئی ای ڈی دھماکے کیے، جن میں کم از کم 11 سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

بیجاپور اور دنتے واڑہ کی سرحد پر جاری اینٹی نکسلی کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ، کئی اہلکار زخمی، علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔

یہ پیش رفت چھتیس گڑھ میں بائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف ایک سنگ میل کے طور پر سامنے آئی ہے، جس میں 17 اکتوبر کو بَستر کے جگدلپور میں 208 نکسل کارکنان نے بھارتی آئین اٹھا کر مرکزی دھارے میں واپسی اختیار کی تھی۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ کارروائی نکسلیوں کی مغربی بیورو شاخ کو خاص طور پر نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی، جو اوڈیشہ اسٹیٹ کمیٹی کے تحت کام کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بستر اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے میں مسلسل تعاون اور رہنمائی کے لیے مرکزی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا۔

اس حوالے سے امریکی حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اپنی سطح پر نگرانی کریں کہ ان کے پلیٹ فارمز پر ہندوستان مخالف عناصر اپ لوڈ نہ ہوں۔

امت شاہ نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی ماؤنوازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انھیں تلنگانہ میں پناہ دے۔

اس دورے کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نکسل تشدد کے خلاف جاری مہم پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کریں گے۔