Bharat Express DD Free Dish

Chhattisgarh Naxal IED Blasts: چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں آئی ای ڈی دھماکہ، 11 سکیورٹی اہلکار زخمی، سرچ آپریشن جاری

چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع بیجاپور میں نکسلیوں نے ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے کئی آئی ای ڈی دھماکے کیے، جن میں کم از کم 11 سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔

بیجاپور: چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع بیجاپور میں نکسلیوں نے ایک بار پھر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے کئی آئی ای ڈی دھماکے کیے، جن میں کم از کم 11 سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ بیجاپور کے کریگُٹّا ہلز علاقے میں پیش آیا، جہاں نکسلیوں نے پہلے سے نصب دھماکہ خیز آلات کو اُس وقت فعال کیا جب سکیورٹی فورسز کا دستہ علاقے میں سرچ آپریشن انجام دے رہا تھا۔ پولیس کے مطابق تمام زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر نکال کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج کے لیے راجدھانی رائے پور منتقل کر دیا گیا ہے۔ بیجاپور پولیس کے سینئر افسران نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں سے 10 جوان چھتیس گڑھ پولیس کی ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ (ڈی آر جی) یونٹ سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ایک اہلکار سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایلیٹ یونٹ کمانڈو بٹالین فار ریزولیوٹ ایکشن (کوبرہ) کا ہے۔ کوبرہ یونٹ کے زخمی افسر کی شناخت 210ویں بٹالین کے سب انسپکٹر رودریش سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق دھماکوں میں سب انسپکٹر رودریش سنگھ اور ڈی آر جی کے دو جوانوں کے پیروں میں شدید چوٹیں آئی ہیں، جبکہ تین دیگر اہلکاروں کی آنکھوں میں چھروں کے ٹکڑے لگے ہیں۔ دیگر زخمیوں کو بھی مختلف نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔ تمام اہلکار اس وقت رائے پور کے ایک سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ یہ علاقہ نکسلی سرگرمیوں کے لحاظ سے کافی حساس مانا جاتا ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں سکیورٹی فورسز نے کریگُٹّا علاقے میں اُسور پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے تاڑپالا گاؤں میں اپنا کیمپ قائم کیا تھا، جسے بڑے ماؤ نواز لیڈروں کا محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس سے قبل اپریل اور مئی کے مہینوں میں مرکزی اور ریاستی سکیورٹی فورسز نے کریگُٹّا ہلز کے گھنے جنگلات میں 21 دن طویل ایک بڑا آپریشن چلایا تھا، جس میں 31 نکسلی مارے گئے تھے۔

اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے نکسلیوں کے قبضے سے 35 ہتھیار، تقریباً 450 آئی ای ڈیز، بڑی مقدار میں ڈیٹونیٹر، دھماکہ خیز مواد، طبی سازوسامان، برقی آلات اور نکسلی لٹریچر برآمد کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دھماکے اسی نیٹ ورک کی باقی ماندہ سرگرمیوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ یہ آئی ای ڈی حملے بستر رینج کے بیجاپور ضلع میں حال ہی میں ہوئے ایک بڑے انکاؤنٹر کے چند ہی دن بعد سامنے آئے ہیں، جس میں سکیورٹی فورسز نے چھ نکسلیوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس انکاؤنٹر کے دوران دو اے کے-47 رائفلیں، دو 303 رائفلیں، ایک انساز رائفل اور ایک بی جی ایل لانچر برآمد ہونے کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔

سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز بیجاپور کے شمال مغربی حصے میں ایک اور انکاؤنٹر مقام سے دو مزید ماؤ نواز کیڈر کی لاشیں بھی برآمد کی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ، کوبرہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی مشترکہ ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد یہ سرچ آپریشن شروع کیا تھا، جس میں ڈی وی سی ایم دلیپ بیڑجا اور دیگر مسلح نکسلیوں کی موجودگی کی خبر تھی۔ مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 31 مارچ 2026 تک ملک سے ماؤ نواز تشدد کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ متاثر اضلاع کی تعداد گھٹ کر چھ سے تین رہ گئی ہے، جن میں بیجاپور، سُکما اور نارائن پور شامل ہیں۔ 16 دسمبر کو پارلیمنٹ کو دی گئی معلومات میں بتایا گیا کہ 2025 کے پہلے 11 مہینوں میں 2,167 نکسل سے وابستہ افراد نے خودسپردگی اختیار کی، 335 مارے گئے اور 940 سے زائد گرفتار کیے گئے، جو نکسلیوں کے خلاف جاری مہم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read