مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو ختم کرنے کے مرکز کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ہتھیار اٹھانے والے نکسلیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ قومی ہلدی بورڈ کے ہیڈکوارٹر کا افتتاح کرنے کے بعد نظام آباد میں ایک کسان سمّیلن سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے نکسلیوں پر زور دیا کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں۔
کانگریس پر لگایا نکسلیوں کی مدد کا الزم
انھوں نے کہا کہ ’’بندوقیں اٹھانے والوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ خودسپردگی کرو، ہتھیار ڈالو اور مرکزی دھارے کا حصہ بنو۔ یہی ہماری پالیسی ہے۔‘‘ دریں اثنا امت شاہ نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی ماؤنوازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ انھیں تلنگانہ میں پناہ دے۔
تاہم انھوں نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونتھ ریڈی کو متنبہ کیا کہ وہ ریاست کو نکسلیوں کا مرکز نہ بننے دیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’کانگریس نکسلیوں کے ساتھ بات چیت کی حمایت کرتی ہے، ہم نہیں کرتے۔ ان لوگوں سے بات چیت ممکن نہیں ہے جنھوں نے قبائلیوں، پولیس والوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو قتل کیا ہو۔‘‘
کانگریس نے بدعنوانی میں بی آر ایس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے: امت شاہ
امت شاہ نے کانگریس پر بدعنوانی میں بی آر ایس کو پیچھے چھوڑنے کا بھی الزام لگایا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ پہلے تلنگانہ ’کے سی آر‘ کے خاندان کا اے ٹی ایم تھا اب یہ کانگریس پارٹی کا اے ٹی ایم بن گیا ہے۔ انھوں نے قومی سلامتی کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ جب دہشت گردوں نے حملہ کیا تو کانگریس نے کچھ نہیں کیا، لیکن پی ایم مودی کی قیادت میں ہم نے بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیا۔
وہیں راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’وہ آج بھی سوال کرتے رہتے ہیں۔ انھیں پاکستان کی حالت پر نظر ڈالنی چاہیے۔ انھیں جواب مل جائے گا۔‘‘ امت شاہ نے اپنے خطاب کا اختتام اس نوٹ پر کیا کہ ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت ہی تلنگانہ کی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


