US-Iran Talks: کیا ایران کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ پڑگئے ہیں کمزور؟ امن بات چیت کے لیے ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات پر آمادہ
اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔
US-Iran Talks: امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع، اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود رابطے برقرار، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پیش رفت کی امید
پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
Iran talks with US: امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران سنجیدگی کے ساتھ ہوا ہے شامل، نتائج کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر: ایرانی صدر
اسلام آباد میں جاری بات چیت میں پیش رفت کے باوجود اختلافات برقرار۔ ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ بات کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Trump is ready to end the war: آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار، امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکہ بحری راستوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم اصل فوجی ہدف ایران کی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانا ہے۔





