Bharat Express DD Free Dish

Ceasefire Talks

اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔  اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔

پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

اسلام آباد میں جاری بات چیت میں پیش رفت کے باوجود اختلافات برقرار۔ ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ بات کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق امریکہ بحری راستوں کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے، تاہم اصل فوجی ہدف ایران کی بحری، میزائل اور جوہری صلاحیت کو نشانہ بنانا ہے۔