Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Talks: کیا ایران کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ پڑگئے ہیں کمزور؟ امن بات چیت کے لیے ایرانی قیادت سے براہ راست ملاقات پر آمادہ

اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔  اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔

واشنگٹن/اسلام آباد: ایران-امریکہ کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو وہ ایرانی رہنماؤں سے براہِ راست ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

امریکی وفد اسلام آباد روانہ، ایران کا غیر یقینی موقف

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر وینس کے دورے سے انکار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق کر دی۔ دوسری جانب ایران کی طرف سے ابھی تک اس مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران اس مرحلے کی بات چیت میں شامل نہ ہونے پر غور کر رہا ہے۔ ایران نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ غیر حقیقت پسندانہ مطالبات پیش کر رہا ہے اور جنگ بندی کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے باہر امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا فیصلہ بھی ایران کے عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کی مذاکرات پر آمادگی، براہِ راست ملاقات کا عندیہ

صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہمیں بات چیت کرنی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی قیادت تیار ہو تو وہ براہِ راست ملاقات کے لیے بھی تیار ہیں، تاہم واضح کیا کہ امریکہ کا بنیادی مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے اور وہ کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔  اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read