Bharat Express DD Free Dish

Global Tensions

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔  اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ بیجنگ نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی بات چیت کے ذریعے امن کی راہ اختیار کریں۔

میٹنگ میں ایل پی جی، ایل این جی، بجلی اور کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات، افواہوں کو روکنے کے لیے درست معلومات کی ترسیل پر زور۔ یہ اجلاس 7 لوک کلیان مارگ میں منعقد ہوا اور اس معاملے پر سی سی ایس کا یہ دوسرا خصوصی اجلاس تھا۔

وزیر اعظم نے کانگریس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، اس وقت اپوزیشن جماعت تقسیم پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس عوام میں خوف اور افواہیں پھیلا رہی ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے حالات کے بگڑنے کا انتظار کر رہی ہے۔

ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 24 دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی رد کیا جس میں انہوں نے مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں کے باوجود وہ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔

ماسکو نے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے  سفارتی حل اور علاقائی مکالمے پر زور دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے پہلا قدم فوری طور پر جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

کم جونگ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلحہ فیکٹریوں میں آٹومیشن یعنی بغیر انسانی مدد والے پروڈکشن کو فروغ دیا جائے۔ فیکٹریوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ کم از کم انسانی مداخلت ہو، مشینیں خود سے کام کریں۔

یوکرین کے دفاعی دستہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 88 ڈرونز مار گرائے ہیں جبکہ 128 نقلی ڈرونز بغیر کسی کو نقصان پہنچائے گر گئے۔ کیف اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں 9 گھنٹے تک فضائی حملے کی وارننگ جاری رہی۔ یوکرین کے ڈس انفارمیشن سینٹر کے سربراہ آندرئی کوولینکو نے کہا، ’’روس نے ہمیشہ بات چیت کے وقت دھمکانے کے لیے جنگ کا سہارا لیا ہے۔