Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Talks

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران  نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی پاورفل فضائیہ (ایئرفورس) نے اب تک کی سب سے بڑی ناکہ بندی لگائی اور دو ماہ تک ایک بھی جہاز ناکہ بندی کو پارنہیں کرسکا۔ پھر ہم شاید ایک معاہدے کے قریب پہنچے، اس لئے ہم نے ناکہ بندی میں نرمی دی۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن شاید ہم ایک معاہدے (ڈیل) پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے باوجود تیل کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔

دوحہ میں امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق مذاکرات طے ہے۔ اس سے پہلے قطرنے اورخود ایران نے واضح کر دیا ہے کہ تہران اورواشنگٹن کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ امریکی حکام سے کسی بھی سطح پرملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں قطراور پاکستان کی ثالثی کے درمیان امریکہ اور ایران میں بات چیت شروع ہوگئی ہے۔ اس کا اعلان قطرکے وزارت خارنہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی شرائط پربات چیت کے لیے خصوصی تکنیکی اورماہرگروپ قائم کئے گئے ہیں۔ یہ گروپ ایم اویوکے تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے۔

ایران نے آبنائے ہرمزکو بند کرنے کے اپنے فیصلے کو لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی سے جوڑا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنگ بندی اورمعاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔

قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی بھی جمعہ کو سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ قطر کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والا ملک تصور کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے آج رات ایک خط موصول ہونے والا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو واشنگٹن اپنا موقف مزید سخت کرسکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس تجویز کا بنیادی مقصد جاری مذاکرات میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ اقدام ایرانی قیادت کے اندر جوہری رعایتوں کے دائرہ کار پر جاری اختلافات کو وقتی طور پر نظرانداز کرنے کی کوشش بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔