Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Talks

دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔

ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دورپیر کے روز(20 اپریل) اسلام آباد میں متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں ممالک کے وفود اتوار کواسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اس اعتماد کا اظہارکیا کہ دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب ہیں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔

پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

Hormuz Strait tension:  اسلام آباد میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بین الاقوامی حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اسی درمیان پاکستان کے دو تیل ٹینکر’شالمار‘ اور’خیرپورر‘ سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے، جو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمزمیں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن انہیں واپس جانے پرمجبورکردیا گیا۔ اس کے پیچھے کی وجہ …

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔

اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روزامریکہ اورایران کے درمیان اہم بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے چل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو گھنٹے تک چلی امن مذاکرات میں دونوں فریق نے رضامندی تک پہنچنے کے لئے نرم رویہ دکھایا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔