Bharat Express DD Free Dish

US-Iran Talks

اسلام آباد میں جاری امریکہ-ایران امن مذاکرات کے درمیان ایرانی وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کے سامنے چاراہم مطالبات رکھے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق، مذاکرات کے لئے 15 دنوں کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹے بے حد اہم مانے جا رہے ہیں، جو طے کریں گے کہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوگا یا پھرکشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔

سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید نے امریکہ-ایران مذاکرات سے متعلق کہا کہ یہ بات چیت اگرناکام ہوئی تو صورتحال خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی جنگ نہ ہو، بلکہ امن برقرار رہے۔ تاہم بدقسمتی سے جو کردارہمیں نبھانا چاہئے تھا کہ ہم امن کے سفیرہیں اور دنیا کو اچھے مشورے دیتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کل ہونے والے امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات سے قبل کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو دوکام کرنے چاہئیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

عمان کے دارالحکومت میں ایران کے سرکاری IRIB ٹی وی سے بات کرتے ہوئے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بات چیت عام موضوعات سے ہٹ کر مزید مخصوص تجاویز کی طرف چلی گئی ہے۔ انہوں نے بات چیت کو آگے بڑھنے سے تعبیر کیا لیکن مسائل کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

بات چیت کے اختتام کے بعد ایران کے سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ ’’مذاکرت کے میں سامنے آنے والے تعمیری ماحول‘‘ کے سبب ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں فریقین مزید بات چیت کریں۔