US Iran Peace Talks In Islamabad: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ایک اہم سفارتی بحث کے درمیان ایرانی وفد نے اپنے اہم مطالبات وزیراعظم شہبازشریف کو پیش کئے ہیں۔ یہ شرائط امریکہ-ایران امن مذاکرات کے لئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں اورمزید مذاکرات کا انحصارانہی پرہوگا۔
ایران کے اہم مطالبات
ایرانی وفد نے واضح طورپر چاربڑے مطالبات پیش کئے۔
پہلا مطالبہ- ایران کے منجمد اثاثے (فریزکی ہوئی جائیداد) کوفوری طورپرریلیز کیا جائے۔
دوسرا مطالبہ- لبنان میں فوری جنگ بندی نافذ کی جائے۔
تیسرا مطالبہ- ابنائے ہرمزسے روزانہ صرف 15 جہازوں کے گزرنے کی حد مقررکی جائے اورٹرانزٹ فیس بھی عائد کی جائے۔
چوتھا مطالبہ- خلیجی ممالک سے امریکی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے۔
امریکہ نے دیا بڑا اشارہ
اس درمیان ایک سینئرایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے قطراوردیگرغیرملکی بینکوں میں پھنسے ایرانی اثاثوں کوجاری کرنے پررضامندی ظاہرکی ہے۔ اسے معاہدے کے بارے میں واشنگٹن کی سنجیدگی کی علامت کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ امریکی وفد میں نائب صدرجے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیووٹ کاف اورڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنرشامل ہیں۔ امریکی طیارہ ہفتہ کی صبح اسلام آباد پہنچا اوردونوں فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
ایران کی وارننگ- ’اسرائیل فرسٹ‘ ہوا تومعاہدہ نہیں
ایران کے نائب صدرمحمد رضا عارف نے واضح طورپرکہا ہے کہ اگرمذاکرات “امریکہ فرسٹ” کے نقطہ نظرسے کئے جائیں تومعاہدہ ممکن ہے۔ تاہم، اگر”اسرائیل فرسٹ” کا طریقہ اختیارکیا جاتا ہے توکوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے خبردارکیا کہ ایسی صورت حال میں ایران اپنے دفاع کومزید مضبوط کرے گا، جس کے نتائج پوری دنیا کے لئے ہوسکتے ہیں۔
15 دنوں کی ڈیڈ لائن
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق، مذاکرات کے لئے 15 دنوں کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹے بے حد اہم مانے جا رہے ہیں، جو طے کریں گے کہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوگا یا پھرکشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔ ایرانی وفد کوپاکستان کی ہوائی سرحد میں داخلہ کے دوران اے ڈبلیواے سی ایس، الیکٹرانک جنگی طیاروں اورلڑاکا طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی سیکورٹی دی گئی۔ اسلام آباد اورراولپنڈی میں بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
