امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی عمل جاری رکھنے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کی بھرپور کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن معاہدہ طے نہیں ہو سکا، جس کی بنیادی وجہ باہمی عدم اعتماد کو قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔
سفارتی رکاوٹیں اور نیوکلیئر تنازع
جے ڈی وینس نے ایک تقریب کے دوران اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ نیوکلیئر پروگرام سے متعلق اختلافات ہیں۔ امریکہ نے ایران کے لیے 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کی تجویز پیش کی، جبکہ ایران صرف پانچ سال کے لیے اس عمل کو معطل کرنے پر آمادہ ہوا۔ اس بڑے فرق کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ خلیج فارس کے اہم تجارتی راستے آبنائے ہرمز اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں سے متعلق امور بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا سبب بنے۔ ان حساس معاملات پر کوئی مشترکہ مؤقف سامنے نہ آ سکا، جس سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
نئی بات چیت کی تیاری اور سفارت کاری کا مستقبل
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ایک بار پھر مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے، جس کے لیے پاکستان کو دوبارہ میزبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک مکمل طور پر سفارتی عمل سے دستبردار نہیں ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ مذاکرات 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے، مگر کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے باوجود دونوں فریقین نے اس عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ صورتحال پیچیدہ ہے، لیکن مسلسل سفارتی کوششیں، عالمی دباؤ اور خطے میں استحکام کی ضرورت دونوں ممالک کو کسی نہ کسی معاہدے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے سب سے اہم شرط باہمی اعتماد کی بحالی ہے، جس کے بغیر کسی بھی بڑے معاہدے کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


