Bharat Express DD Free Dish

JD Vance

دونوں رہنماؤں نے جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر گفتگو کی۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم میٹنگ میں اسلحے کے ذخائر، علاقائی سلامتی، ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی امکانات سمیت کئی اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے روکنے کا فیصلہ صرف اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا یا کشیدگی میں اضافے کے خطرات اور دیگر عوامل بھی اس فیصلے کا سبب بنے۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے ایران کا ایک وفد ہفتے کی دیر رات سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔ سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات لوسرن کے قریب ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات چیت سفارتی عمل میں تاخیر کے بعد شروع ہو رہی ہے۔ وینس کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے ہی مختلف فریقوں کے تکنیکی مذاکرات کار مشاورت میں مصروف تھے۔

امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، دونوں ممالک اقتصادی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں گے۔

فرانس میں اہم سفارتی پیش رفت، دونوں ممالک نے تنازع کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، جنیوا میں مزید بات چیت کا امکان برقرار۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔