نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرنے کے مقصد سے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ 110 دنوں سے جاری امریکہ-ایران تنازع کو ختم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششیں بدھ کی رات فرانس میں ایک اہم ملاقات کے دوران کامیاب ہوئیں۔ امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق دونوں صدور نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے تاریخی محل ورسائی (Palace of Versailles) میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ عشائیے کے دوران معاہدے کی سرکاری دستاویز پر دستخط کیے۔ بعد ازاں اس معاہدے کی نقول ایران اور ثالثی میں شامل ممالک کو بھیج دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر نے اسی دستاویز پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ چار ماہ سے جاری تنازع اور تناؤ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔دوسری جانب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے نمائندہ وفود کے درمیان مجوزہ ملاقات کا پروگرام تاحال برقرار ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کسی نئے معاہدے پر دستخط کرنا نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ معاہدے سے متعلق بیشتر دستاویزات پر پہلے ہی ڈیجیٹل دستخط ہو چکے ہیں، جس کے باعث جنیوا میں کسی رسمی دستخطی تقریب کے امکانات کم ہیں۔اس معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے بھی اہم بیان جاری کیا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے معاہدے کی منظوری دے دی ہے اور دستخط ہوتے ہی یہ معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔
🚨 President Donald J. Trump has SIGNED the Iran Memorandum of Understanding at Versailles in France. 🇺🇸 pic.twitter.com/JQ6qlbvFAF
— The White House (@WhiteHouse) June 17, 2026
شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے تحت ایران سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولے گا، جبکہ امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ معاہدہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ جمعہ کے روز جنیوا میں ایک رسمی تقریب بھی منعقد کی جا سکتی ہے۔اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور عالمی سفارت کاری کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جائے گا، جس کے مثبت اثرات عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
