Bharat Express DD Free Dish

JD Vance

واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد جلد ہی شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، جس میں مذاکرات کے ایجنڈے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایرانی وفد کی ملاقات پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر سے بھی ہو چکی ہے، جس میں علاقائی سلامتی کے امور زیر بحث آئے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کل ہونے والے امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات سے قبل کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے کچھ شرائط رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو دوکام کرنے چاہئیں۔

امریکی میڈیا سی این این نے دو سینئر حکام کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے خود کو اہم ثالث کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد اس ہفتے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کے انعقاد کی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

جے ڈی وینس کا یہ بیان ایران کے حوالے سے امریکی موقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کے لیے آمادہ نظر آ رہا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین سے ملکی اداروں پر ’قبضہ‘ کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

امریکی میڈیا اداروں نے واقعے کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن میں گھر کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اصل میں واقعہ کس نوعیت کا تھا۔

بھارت نے 2022 میں یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد سے روس سے رعایت پر تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ مغربی ممالک نے ماسکو پر پابندیاں عائد کیں اور اس کے تیل کی سپلائی سے گریز کیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی توانائی کی خریداری قومی مفادات اور عالمی مارکیٹ کے حالات سے مطابقت رکھتی ہے۔

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

مباحثے کا فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب وینس نے ایک فولڈر کھولا اور ممدانی کی مہم سے متعلق اندرونی میمو سامنے لائے، جن کی صداقت بعد میں آزاد ذرائع سے تصدیق ہوئی۔ ان دستاویزات نے ممدانی کے عوامی موقف میں تضادات کو بے نقاب کی۔